تھر: مزید 3زندگیاں ابدی نیند سوگئیں، جاں بھق بچوں کی تعداد 117ہو گئی -
The news is by your side.

Advertisement

تھر: مزید 3زندگیاں ابدی نیند سوگئیں، جاں بھق بچوں کی تعداد 117ہو گئی

تھرپارکر: تھر میں بھوک نےمزید3زندگیوں سےموت کاپیٹ بھردیا ہے اور غذائی قلت سےجاں بحق بچوں کی تعداد117ہوگئی ہے۔ طبی سہولیات کےفقدان نے ایک خاتون کی جان بھی لے لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تھر میں موت کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ تھر میں موت غذائی قلت کا بھیس بدل کر معصوم زندگیوں کو نگلنے کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مٹھی کے سول استپال میں غذائی قلت کے باعث پندرہ دن کا ایک اور معصوم بچہ دم توڑ گیا ہے۔

چھاچھرو کے گاؤں میں بھی اٹھارہ ماہ کا بچہ زندگی کی بازی ہار گیا ہے۔ تھری باسیوں کو پانی اور غذائی کمی کے عفریت کا سامنا ہے جس کے باعث ماوں کی کمزور جسمانی حالت کے باعث شیر خْوار بچے ماں کے دودھ سے محروم ہیں۔

تھر میں بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کے دعووں کے باوجو د برسر زمین حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ جس کا نتیجہ بچوں کی اموات اور تھر سے نقل مکانی کی صورت میں نکل رہا ہے۔

دولاکھ مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا صحرائے تھر، پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے جہاں ہمیشہ سے بھوک اور قحط کا ڈیرا ہے۔ روایتی لبادے میں لپٹے صحرائی واسیوں کی پیاسی نظریں، پانی کی تلاش میں آسمان سے ہوتی ہوئی پاتال میں گڑ جاتی ہیں۔

بھوک سے بلکتے بچوں کی خاطر نقل مکانی یہاں کے لوگوں کا مستقل عمل بن چکی ہے۔ دوردراز علاقوں میں بچوں کو موت سے بچانے کے لئے تھر کے لوگ کر تے رہتے ہیں اپنی سے کو ششیں، مگر قریب میں کوئی اسپتال کوئی ایمرجنسی یونٹ موجود ہی نہیں ہے۔

شہروں سے قریب علاقوں کو تو امداد بھی مل جاتی ہے مگر دوردراز گائوں میں قحط سے مرتے لوگوں کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچ پاتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں