ثمینہ بیگ کے بھائی مرزاعلی نے کے ٹو سر کرنے کے عزم کا اظہار ٹوئٹر پر کردیا -
The news is by your side.

Advertisement

ثمینہ بیگ کے بھائی مرزاعلی نے کے ٹو سر کرنے کے عزم کا اظہار ٹوئٹر پر کردیا

پاکستانی مایہ ناز کوہ  پیما  ثمینہ بیگ ان گرمیوں میں اپنے بھائی اورنامورکوہ پیما مرزا علی کے ہمراہ دنیاکی دوسری سب سے بلند چوٹی کےٹو سرکرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ثمینہ بیگ دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماونٹ ایورسٹ کو سرکرنے والی پہلی مسلم خاتون ہیں اور تیسری پاکستانی ہیں، انہوں نے 21 سال کی عمر میں کوہِ ہمالیہ کو سرکیا تھا اوراب 24 سال کی عمر میں وہ دنیا کی دوسری بلند لیکن دشوارترین چوٹی کے ٹو کو سرکرنے کا عزم کئے بیٹھی ہیں۔

سمینہ بیگ کے ساتھ ماونٹ ایورسٹ کو سرکرنے والے ان کے بھائی مرزا علی نے اس عزم کا اظہار ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ کے ذریعے بھی کیا ۔

سن 2009 میں انہوں نے ہندو کش اور قراقرم کی چوٹیوں کے لئے ایک کوہ پیما گائیڈ کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔

ثمینہ بیگ ایک پیشہ ورکوہ پیما ہے اورکوہِ ہندوکش اورکوہِ قراقرم میں ماوئنٹین گائیڈ اور مہم کے سربراہ کے فرائض انجام دے رہیں ہیں۔

کے ٹو اگرچہ ماونٹ ایورسٹ سے بلند نہیں ہے لیکن زیادہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے ہر کوہ پیما کی طرح ثمینہ کی بھی ترجیح ہے۔

K2

کے ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ سلسلہ کوہ قراقرم، پاکستان میں واقع ہے، اس کی بلندی 8611 میٹر/28251 فٹ ہے۔ اسے پہلی بار 31 جولائی 1954ء کو دو اطالوی کوہ پیماؤں لیساڈلی اور کمپانونی نے سر کیا، اسے ماؤنٹ گڈون آسٹن اور شاہگوری بھی کہتے ہیں۔

K2 Baltoro

کے ٹو پر چڑھنے کی پہلی مہم 1902 میں ہوئی جو کہ ناکامی پر ختم ہوئی۔ اسکے بعد 1909، 1934، 1938، 1939 اور 1953 والی کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔ 31 جولائی 1954 کی اطالوی مہم بالاخر کامیاب ہوئی۔

Baltoro K2

کے ٹو کو ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ کے ٹو پر 246 افراد چڑھ چکے ہیں جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ پر 2238۔

K2

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں