جاگیردارانہ نظام کے خاتمہ کا فوری اعلان کیاجائے،الطاف حسین -
The news is by your side.

Advertisement

جاگیردارانہ نظام کے خاتمہ کا فوری اعلان کیاجائے،الطاف حسین

کراچی :متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے کہاہے کہ فلسطین کی دردناک صورتحال پر مسلم ممالک ، اقوام متحدہ اور او آئی سی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،اگر او آئی اسی غزہ کی المناک صورتحال پر کوئی کردار ادا نہیں کرتا تو پاکستان کو او آئی سی کی رکنیت سے الگ ہوجاناچاہیے۔ انہوں نے مسلح افواج اور وفاقی وصوبائی حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہاہے کہ اگروہ باقی ماندہ پاکستان کو قائم ودائم دیکھنا چاہتے ہیں تومزید وقت ضائع کیے بغیر ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمہ کا اعلان کیاجائے.

مذہبی انتہاء پسندی کا درس دینے والے اسکول ، مدارس اوردیگراداروں کو فی الفور بند کیا جائے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایم کیوایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاوٴنڈیشن کے تحت ایکسپوسینیٹر کراچی میں منعقدہ سالانہ امدادی پروگرام کے شرکاء سے ٹیلی فون پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ایم کیوایم کے رہنماوٴں اورمنتخب نمائندوں کے علاوہ سیاسی وسماجی شخصیات ،مذہبی رہنماوٴں، تاجروں ، صنعتکاروں اورزندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔غریب ومستحق افراد میں کروڑوں روپے مالیت کی امدادی اشیاء اور نقدرقوم بھی تقسیم کی گئیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان 27 ویں رمضان المبارک کو قائم ہوا ۔ آج پاکستان میں 27 ویں رمضان کی شب ہے اور میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت شب کے صدقے پاکستان پر رحم وکرم فرمائے ، ملک کوتمام مشکلات، کرپشن اورسیاسی وسماجی برائیوں سے نجات دلائے اورپاکستان کوبانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کا پاکستان بنادے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ان گنت مسائل کا شکار ہے ، عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت ، غربت ، بھوک ، افلاس ،مہنگائی اوربے روزگاری کے مسائل میں مبتلا ہیں ، امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے اورشہر میں ٹارگٹ کلنگ کاسلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے وفاقی وصوبائی حکومتوں سے درخواست کی کہ ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام اور شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے موٴثراقدامات بروئے کار لائے جائیں اور سفاک ٹارگٹ کلرز کو گرفتارکرکے کیفرکردار تک پہنچایاجائے ۔

انہوں نے شیعہ اور سنی علمائے کرام اور عوام سے اپیل کی کہ وہ میدان عمل میں آکر اجتماعی کمیٹیاں تشکیل دیں، اپنے اپنے علاقوں کی حفاظت کریں ،مشکوک افرادپر کڑی نظررکھیں اور ایک دوسرے کی جان ومال کی حفاظت کریں۔ الطاف حسین نے کہاکہ ملک میں مون سون کے موسم کے باعث بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے لیکن حکومت سندھ کی جانب سے ابھی تک برساتی نالوں کی صفائی ، برساتی پانی کی نکاسی اورصحت وصفائی کے حوالے سے نہ تو کسی قسم کے اقدامات کیے اور نہ ہی اس ضمن میں بلدیاتی اداروں کو فنڈز فراہم کیے ہیں۔ ملک میں اب تک مقامی حکومت کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ،جمہوریت کاراگ الاپنے والے ابھی تک جمہوریت کی ”ج“ سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ شمالی وزیرستان میں مسلح افواج ، دہشت گردوں کے خلاف صف آراء ہے اورہمت وجرات کے ساتھ دہشت گردوں کا صفایا کررہی ہے ، ملک کے دفاع اور سلامتی کیلئے فوج کے افسران اور جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں ۔

الطاف حسین نے فلسطین کی المناک صورتحال کا تذکر ہ کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیلی جارحیت کے باعث اب تک فلسطین میں 800 سے زائد بچے ، بوڑھے،خواتین اور جوان شہید ہوچکے ہیں ، مسلم ممالک، اقوام متحدہ اور او آئی سی سب کے سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر او آئی اسی غزہ کی المناک صورتحال پر کوئی کردار ادا نہیں کرتا تو پاکستان کو او آئی سی کی رکنیت سے الگ ہوجاناچاہیے ۔ الطاف حسین نے وزیراعظم پاکستان کے غیرملکی دورے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ملک کے شمالی وزیرستان میں مسلح افواج حالت جنگ میں ہے ، جگہ جگہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آرہے ہیں ، ملک میں بنیادی وسائل کی عدم فراہمی کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر فلسطین کے مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے لیکن وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف عمرہ ادا کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ عمرہ نفلی عبادت ہے جبکہ ملک کی سلامتی وبقاء اور انسانوں کی جان ومال کرنا اور ظلم کے خلاف آوازاٹھاناوزیراعظم کابنیادی فرض ہے ۔ ملک میں خلافت راشدہ ، اسلامی نظام اور اللہ رسول کے قانون کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے جبکہ خلیفہ وقت فرماتے تھے کہ نہر فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی پیاسہ مرجائے تو اس کاعذاب میرے سر ہوگا ، خلفائے راشدین راتوں کو جاگ جاگ کردورے کیاکرتے تھے کہ ان کی ریاست میں کوئی بھوکا پیاسہ تو نہیں یا کسی مشکل کا شکار تو نہیں ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان کا جوطرزعمل ہے کیا یہ مسلم سربراہ کاطورطریقہ قراردیا جاسکتا ہے ؟دوروزقبل پنجاب کے علاقے میں جاگیردار نے ایک معصوم بچے کے ہاتھ کاٹ دیئے ۔ اگر ایم کیوایم کی حکومت ہوتی تو اب تک اس سفاک جاگیردار کے بازو کاٹے جاچکے ہوتے ۔ یہ ہمت وجرات ایم کیوایم کے علاوہ پاکستان کی کوئی سیاسی ومذہبی جماعت نہیں کرسکتی ، ا سلئے کہ سیاست میں خدمت کاتصور ایم کیوایم ہی نے دیا ہے ۔

الطاف حسین نے کہاکہ بارشوں کی اطلاعات کے باعث کے کے ایف کے تحت یہ سالانہ امدادی پروگرام ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد کیا جارہا ہے ۔ 11، جون 1978ء کواے پی ایم ایس او کے قیام کے دن سے آج کے دن تک فلاحی سرگرمیوں اوردکھی انسانیت کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے ، اس مقصد کے تحت1979ء میں خدمت خلق کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جوکہ بعد میں خدمت خلق فاوٴنڈیشن میں تبدیل کردی گئی ، نادارطلباء ، غریب ومستحق بیواوٴں ، یتیموں ،مساکین اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا اس فلاحی ادارے کے منشور کا حصہ ہے ۔ ایم کیوایم کی 35 سالہ جدوجہد کے دوران یہ ادارہ بلاامتیازرنگ ونسل ، زبان ، مسلک، عقیدہ اورمذہب دکھی انسانیت کی عملی خدمت کرتاچلاآرہا ہے ۔ قحط وخشک سالی، زلزلے ، سیلاب، ، دیگر قدرتی آفات اورحادثات کے موقع پر خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی خدمات سے پورا پاکستان واقف ہے ۔

الطاف حسین نے کہاکہ تمام ترمشکلات اور مالی مسائل کے باوجود خدمت خلق فاوٴنڈیشن تعلیم کے فروغ کیلئے بھی بھرپورکوشش کررہی ہے اور کراچی میں نذیرحسین یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایاجاچکا ہے جبکہ غریب عوام کو علاج ومعالجہ کی سہولیات کی فراہمی کیلئے کراچی اور حیدرآباد میں نذیرحسین میڈیکل سینٹر، بلڈ بنک، ایمبولینس اورمیت بس سروس کے ذریعہ عوام کی خدمت کاسلسلہ جاری ہے ۔ الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان اور جاگیردارانہ نظام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ اگر یہ فرسودہ اور ظالمانہ نظام جاری رہا تو خدانخواستہ ملک ہی داوٴ پر نہ لگ جائے ۔ الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کو ہرشعبہ میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ ملک کو ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جس میں غریب اورامیر دونوں کو یکساں تعلیمی سہولیات میسر ہوں ۔ ملک میں انصاف کا نظام بھی تباہ حالی کا شکار ہے ، مقدمات اور پیشیاں دس دس ، بیس بیس سال تک چلتی رہتی ہیں اور غریب عوام عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں مگر انہیں انصاف نہیں ملتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں ایسا عدالتی نظام قائم کیا جائے جس میں غریب کو توجرم کرنے پر سزا ملے لیکن اگر ملک کا حکمراں جرم کرے تو اسے بھی سزا ملے ۔الطاف حسین نے چند برس قبل عدلیہ کی آزادی کیلئے چلائی جانے الی تحریک کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس تحریک کے نام پر ایک شخص کو ہیرو بنانے کی کوشش کی گئی ۔ جلوس نکالے گئے اور گھنٹوگھنٹوں انہیں ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھایا گیا ۔ میں نے سوال کیا کہ یہ کیسا دہرامعیار ہے کیونکہ پی سی او پر حلف اٹھانے والے بھی تو سب لوگ برابر کے مجرم ہیں ۔ میں نے ایجنسیوں والوں سے کہاکہ جوعدلیہ کا اصل ہیرو ہے اسے ہی ہیرو رہنے دو۔ کسی ایک فرد کے آنے جانے سے عدالتی نظام درست نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو بہتر بنانے کیلئے پورے نظام کو بدلنا ہوگا اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگالیکن آمریت کا ، جنرل پرویزمشرف کا ایجنٹ قراردیا گیا اورپھر 12 ،مئی کا سانحہ کرایا گیا ، پھر الزام لگایا گیا کہ کراچی میں کئی وکلاء زندہ جلاکر قتل کردیئے گئے لیکن جب میں نے مطالبہ کیاکہ ہمیں ہلاک ہونے والے وکلاء کے نام ، پتے اور ان کے باررجسٹریشن نمبرز فراہم کیے جائیں توکسی نے اس سوال کاجواب تک نہیں دیا ۔ یہ جھوٹا الزام تھا جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے اور جن لوگوں نے یہ جھوٹ لکھا مجھے یقین ہے کہ محشر کے روز ان کے ہاتھ جلائے جائیں گے اور جنہوں نے یہ جھوٹ بولا محشر کے روز جھوٹ بولنے پر ان کے منہ میں آگ بھری جائے گی

۔ یہ کیسی وکلاء کی تحریک تھی جس کے تمام رہنما ء جہاز کی فرسٹ کلاس میں پورے ملک کے دورے کرتے تھے ، صبح ایک شہر ،دوپہر دوسرے شہر اور شام کو تیسرے شہر میں ہوتے تھے اور ان ججوں کی بحالی کیلئے تحریک چلارہے تھے جنہوں نے خود آمرانہ دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھایاتھا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج آئین توڑنے پر جنرل پرویزمشرف کو سزا دینے کی بات ہورہی ہے لیکن جنرل مشرف کو اکیلئے سزا دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ میں موجودہ حکومت ،دانشوروں ، قلمکاروں اور دیگر تمام طبقات کے افراد سے کہتا ہوں کہ وہ میری آواز میں آواز ملائیں اورمیرے ساتھ مطالبہ کریں کہ اسلام آباد میں ”آرٹیکل 6“ نامی بستی کے قیام کا اعلان کیاجائے جس میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں ، جرنیلوں اور ان تمام لوگوں کو آباد کیاجائے جنہوں نے آڑٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں جنرل مشرف کا ساتھ دیا۔

الطاف حسین نے پورے ملک ، خصوصاً سندھ کے شہری علاقوں میں صحت وصفائی اوردیگر بنیادی شہری سہولیات کے نظام کی تباہ حالی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اورصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں فوری طورپر بلدیاتی انتخابات کروائیں اورمقامی حکومتوں کا نظام قائم کریں ، انہوں نے کہاکہ بلدیات، جمہوریت کی نرسری ہوتی ہیں اور ان کے قیام کے بغیرجمہوریت کا تصور ہی ادھورا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو کرپشن بھی گھن کی طرح کھارہی ہے اورہمیں اس لعنت سے بھی چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا خواہ اس کیلئے کتنے ہی کڑوے گھونٹ کیوں نہ پینے پڑیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان جن مسائل اورچیلنجز میں گھرا ہوا ہے ان سے نکلنے کیلئے جرات مندانہ اقدام کی ضرورت ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں 12 سے 16 انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں خواہ انہیں کوئی بھی نام دیا جائے ۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ترکی کی طرح پاکستان کو بھی ایک مصطفی کمال اتاترک عطا کردے ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں