The news is by your side.

Advertisement

جمالِ شعرجمال احسانی کو گزرے 17 برس بیت گئے

کراچی (ویب ڈیسک) – آج اردو زبان کے ممتاز شاعر جمال احسانی کی بر سی ہے۔ جمال 21 اپریل 1951 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے تھے۔
انتہائی منفرد اور ممتاز لب و لہجے کے شاعر جمال احسانی کالج اوریونیورسٹی کے نوجوانوں میں بے پناہ مقبول تھے۔

یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے
یہ رنج ہے کوئی درمیان میں بھی نہ تھا

آپ نے تین شعری مجموعے تحریر کئے جن میں تارے کو مہتاب کیا، رات کے جاگے ہوئے، ستارۂ سفر شامل ہیں۔ آپ کا تمام تر کلام کلیاتِ جمال کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔

ہارنے والوں نے اس رخ سے بھی سوچا ہوگا
سرکٹانا ہے توہتھیارنہ ڈالیں جائیں

جمال نے اپنی ابتدائی تعلیم سرگودھا میں ہی حاصل کی اوراس کے بعد کراچی منتقل ہوگئے اورپھریہیں کے ہورہے۔

تعلیم کے بعد محکمۂ اطلاعات ونشریات ،سندھ سے منسلک ہوگئے۔اس کے علاوہ جمال احسانی روزنامہ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ’’رازدار‘‘ بھی نکالتےرہے۔ وہ معاشی طور پر بہت پریشاں رہے۔

  تمام آئینہ خانے کی لاج رہ جاتی
کوئی بھی عکس اگربے مثال رہ جاتا

 آپ کے کلام میں بے ساختگی اور شائستہ پن تھا اور اس کے ساتھ ہی معاشرے کی محرومیوں کا کرب بھی تھا اور ان کے کلام کا یہی جزو انہیں نوجوانوں میں منفرد بناتا تھا۔۱۹۸۱ ء میں سوہنی دھرتی رائٹرزگلڈ ایوارڈ ملا۔

جمال احسانی 10 فروری 1998 کو 47 سال کی مختصرعمرمیں کراچی میں وفات پاگئے،انکی وفات پرمقبول شاعر جون ایلیاء نے ایک معرکتہ الارآ مختصر مرثیہ کہا تھا جس کا نمائندہ شعر کچھ یوں ہے کہ،

یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب توجاکےکہیں دن سنورنے والے تھے

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں