site
stats
اے آر وائی خصوصی

جمیل الدین عالی آج نوے برس کے ہوگئے

آج اردو کے ممتازشاعر، نقاد، سابق بینکراورجیوے جیوے ہاکستان، اے وطن کے سجیلے جوانوں، میرا پیغام پاکستان اورہم مصطفوی ہیں جیسے شہرۂ آفاق گانوں کے خالق جمیل الدین عالی 90 برس کے ہوگئے ہیں۔

جمیل الدین عالی 20جنوری 1926ء کودہلی میں پیدا ہوئے۔ 1940ء میں اینگلو عربک کالج دریا گنج دہلی سےمیٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں معاشیات، تاریخ اورفارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی پاس کرکے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطوراسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اورانکم ٹیکس افسرمقررہوئے۔

1963ء میں آپ کووزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرارمقررکیا گیا اس دوران اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا لیکن فوراًگورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پرنیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔

1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اورسینٹرایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاںسے ترقی پاکر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزرمقررہوئے۔

جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں اور ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی اعزازبرائے حسن کارکردگی، 2003 میں ہلالِ امتیاز برائےاردو ادب، اور کمالِ فن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جامعہ کراچی نے 2004 میں آپ کو ادب کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔

عالی کی تخلیقی متنوع مزاجی کا اندازہ ان کے تخلیقی کام کرنے کے مخلتف پیرایوں سے ہوتا ہے تاہم انہوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اوروہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اوراسے بطور صنفِ شعراردو میں جواستحکام بخشا ہے وہ خاص انہی کی دین ہو کررہ گیا ہے۔ شعر گوئی میں کمال کرنا توفیق کی بات سہی، لیکن سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑکوئی رخ کوئی نئی جہت ، کوئی نئی راہ ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہوجائے۔

اپنے غزلیں بھی کہیں اور نظمیں بھی اور گیت بھی تخلیق کیے۔ جیوے جیوے ہاکستان، اے وطن کے سجیلے جوانوں، میرا پیغام پاکستان اورہم مصطفوی ہیں جیسے شہرۂ آفاق گانے آُپ سے ہی منسوب ہیں ۔ آپ کی طویل نظمیں فلسفے اور سائنس کا حسین امتزاج ہیں۔

نثر میں جہاں آپ کے سفرنامے بے پناہ مقبول ہیں وہیں گزشتہ پچاس سال سے تحریر کیے جانے والے کالم بھی معاشرے میں ناصح کا کردار ادا کررہے ہیں۔

آپ اردو زبان کی ترقی و ترویج میں پیش پیش رہے چھ دہائیوں تک انجمن ترقی اردو کے اعزازی سیکرٹری کی حیثییت سے خدمات انجام دیں۔ آپ تین سال تک اردو لغت بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔

گزشتہ سال آپ انجمن ترقی اردو میں اپنی ذمہ داریاں ڈاکٹر فاطمہ حسن کو سونپ کرعہدہ براہ ہوئے، آپ انجمن کے تاحیات مشیر بھی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top