The news is by your side.

Advertisement

جوڈیشل کمیشن اجلاس، چیف الیکشن کمشنرسندھ محبوب انور سے جرح

اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر سندھ محبوب انور نے کمیشن کو بتایا کہ سات مئی کے بعد اضافی بیلٹ پیپرز کی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔

سپریم کورٹ میں انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کی اہم سماعت ہوئی، سماعت میں حفیظ پیرزادہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے جواب کےساتھ جودستاویزات جمع کروائی گئیں انکی بنیاد پر پچھلے دوگواہان سےدوبارہ جرح کرنا چاہتا ہوں۔

مسلم لیگ ن کے وکیل شاہد حامد نے چیف الیکشن کمشنر سندھ محبوب انور سے جرح کی، شاہد حامد کے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن کافون آیاکہ اضافی افراد کے حوالے سے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کی مدد کرنا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نےجرح کرتے ہوئے محبوب انور سےسوال کیا، سات مئی کے بعد کیا کسی پرنٹنگ پریس کو یہ حکم دیاگیاکہ اضافی بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں۔

محبوب انور کا کہنا تھا کہ اضافی بیلٹ پیپرز کی ہدایت نہیں دی گئیں تھیں۔

دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ انہیں یہ علم نہیں کہ الیکشن کمیشن کا جواب کس نے تحریر کیا اوردستاویزات پردستخط کس کے ہیں۔

انہوں نے دونوں گواہان سے دوبارہ جرح کی درخواست کی، جس پرچیف جسٹس نے گواہان کو دوبارہ طلب کرنے کی اجازت دیتے ہوئےریمارکس دیئےکہ بیانات کی آڈیوریکاڈنگ سنکرہی گواہی کوحتمی شکل دی جائیگی۔

عبدالحفیظ پیرزادہ کیجانب سے متعلقہ دستاویزات آنے تک جرح روکنے کی درخواست پر سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں