The news is by your side.

Advertisement

جے آئی ٹی انصاف کا قتل ہے، اسی لئے مسترد کرتے ہیں، طاہر القادری

لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے حکومت پنجاب کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی شہیدوں کے خون کے ساتھ دھوکہ دہی، ظلم، جبر اور بربریت کی ایک شرمناک داستان ہے اسے مسترد کرتے ہیں اور یہ جے آئی ٹی قاتلوں کو کلین چٹ دینے کے لئے بنائی گئی ہے۔

لاہورمیں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے خود  لاہور ہائی کورٹ کے ججز  پر مشتمل ایک ٹریبونل بنایا  اور جب اس ٹریبونل نے اپنی رپورٹ پیش کی تو وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لے لیا اور  آج تک اس رپورٹ کو سامنے نہیں لایا گیا کیونکہ اس میں پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

دھرنے ختم کرنے کے سوال پر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ہم نے دھرنے ختم نہیں کئے بلکہ انہیں ملک گیر انقلابی تحریک  میں بدل دیا ہے، دھرنوں کو ایک جگہ منجمد رکھنے کے بجائے انہیں ملک کے چاروں صوبوں میں پھیلا دیا ہے تاکہ لوگوں کو اس انقلاب کا حصہ بنا یا جائے۔ اگلے لائحہ عمل کے طور پر 22 نومبر کو بھکر پہنچ رہا ہوں اور 23 نومبر کو ایک عظیم الشان جلسہ ہو گا اور اس کے اگلے روز دھرنا ہو گا۔ ہر شہر میں ایسا ہی ہو گا ایک دن جلسہ ہو گا ا ور اس کے اگلے روز  قریبی شہر میں دھرنا ہو گا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ 5 دسمبرکو سرگودھا میں جلسہ ہو گا، 14 دسمبر کو سیالکوٹ میں، 21 دسمبر کو مانسہرہ میں اور پھر 25 دسمبر کو کراچی میں ایک عظیم الشان جلسہ ہو گا۔ اس دھرنے نے عوام میں جو شعور بیدار کیا ہے جس نے لوگوں کے ذہنوں میں فکری انقلاب برپا کر دیا ہے، 70 روز کے دھرنے نے اس نظام کے خلاف لوگوں کے اندر جو نفرت پیدا کی ہے اب ہم اسے پھیلا رہے ہیں اور ملک گیر سیاسی طاقت بنانے کے لئے اسے بنیاد بنا رہے ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عمران خان سے اختلافات کی خبروں میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں ہے، یہ فتنہ گری کی گئی ہے، ہمارا کسی موضوع پر کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ میری عدم موجودگی میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقاتیں بھی ہوئیں اور ابھی ہمارے جلوس کے دوران شاہ محمود قریشی نے فون کیا اور ہمیں مبارکباد دی ہے، بعض لوگوں کی روش ہے کہ جہاں بھی جس طریقے کا جھوٹ بولا جا سکے وہ بولیں۔ عمران خان سے ملاقات کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ہم جب چاہیں گے ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں