site
stats
اہم ترین

حالت جنگ میں فوجی عدالتیں بنا کرتی ہیں، چوہدری نثار

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ کسی کے ذہن میں بھی نہیں ہوگا کہ فوجی عدالتوں پرقانون سازی ہوگی۔

اسلام آباد میں اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں قومی اسمبلی کےاجلاس سے خطاب میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان  کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت غیر معمولی حالات کا سامنا ہے، بچے بچے کو جنگ کی صورتحال کا سامنا ہے، حالت جنگ میں فوجی عدالتیں بنتی ہیں، قوم اس وقت حالت جنگ میں ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ فوجی عدالتوں کا مطلب یہ نہیں کہ  ہم ہر کسی لٹکانا چاہتے ہیں، فوجی عدالتیں محدود وقت اور غیر معمولی حالات کے لئے ہیں، عدالت میں آنے والے ہر شخص کو صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، فوجی عدالتیں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والوں کے لئے ہیں ۔

چوہدری نثار نے کہا کہ پاکستان کے گلی محلوں ، بازار ، مساجد میں اعلانیہ حملے ہوئے، چالیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کا خون ہوا، 2009 پشاور میں خواتین اور بچوں کا نشانہ بنایا گیا، کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا، شہید افراد کے جنازوں پر بھی حملے کئے گئے ۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج سے بہادر دنیا کی کوئی فوج نہیں ہے، فوج آئینی حقوق کی جنگ لڑھ رہی ہے، شفقت حسین کا کیس فی الحال معطل کردیا گیا ہے، عام شہریوں کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوگا، فوجی عدالتیں اس لڑائی اور جدوجہد کا ایک عنصر ہیں، کوئی عالم دین دہشتگردوں کے نکتہ اسلام سے اتفاق نہیں کرتا، ہم فساد برپا کرنے والوں کے خلاف ہیں ۔

چوہدری نثار کاکہنا تھا کہ مدارس کوبطور مدارس ٹارگٹ ناانصافی ہوگا، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قوم فوج کے پیچھےکھڑی ہے،انتہاپسندوں کیخلاف سب کومتحرک ہوناپڑے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top