The news is by your side.

Advertisement

حکومت طاہرالقادری کے مطالبات تسلیم کرے یا گھر جائے،الطاف حسین

لندن : متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی بحران کے خاتمے کے لئے طاہر القادری کے مطالبات تسلیم کر نے کو تیار نہیں تو گھر چلی جائے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ملک کی سلامتی و بقا ء کے لئے میدان میں آگئے، ان کا کہنا ہے کہ پندرہ دن سے دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن حکومت کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ۔

انہوں نے طاہر القادری کے مطالبات جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاوٴن میں14شہید80سے زائد زخمی ہوئے ہیں اوراس واقعہ کی ایف آئی آر کٹواناعوامی تحریک کا آئینی و قانونی حق ہے اور عدلیہ بھی اس سلسلے میں فیصلہ دے چکی ہے لیکن اس کے باوجودواقعہ کی ایف آئی آر درج نہیں کی جارہی ہے۔

الطاف حسین نے سیاسی بحران سے نکلنے کا فارمولا بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت یا تو جائز مطالبات تسلیم کرلے یا گھر چلی جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ طاہر القادری کے دھرنے سے متعلق ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی وہ اسے تسلیم کریں گے، جمہوری نظام کے بارے میں الطاف حسین کا کہنا ہے کہ وہ ایسی جمہوریت کو نہیں مانتے جو لوکل گورنمنٹ سسٹم سے خالی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہماری ملٹری کی قیادت اور آئی ایس آئی کے قیادت بہت شریف النفس ہے اوراس میں قوت برادشت بہت زیادہ ہے کوئی اور انکی جگہ ہوتا تو سب منظر دیکھ کر فوراً حکم دیتا ۔

انہوں نے کہاکہ فوج ملک کی بقاء سلامتی کیلئے شمالی وزیر ستان میں تاریخ کی مشکل ترین جنگ لڑ ری ہے جس میں ہزاروں فوجی جوانوں کے ساتھ ساتھ جرینل بھی شہید ہورہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں