خارجی امور پر مضبوط فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہے، سابق صدر پرویز مشرف -
The news is by your side.

Advertisement

خارجی امور پر مضبوط فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہے، سابق صدر پرویز مشرف

کراچی: سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر چار نکات پر اتفاق ہوا تھا اور عالمی سطح پر اس وقت پوری دنیا کی نظریں اس خطے پر ہیں، خارجی امور پر مضبوط فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں خورشید قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف کاکہنا تھا کہ انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مضبوط کیس پیش کیا تھا، خارجی معاملات میں کامیابی کا تعلق مضبوط فیصلوں سے ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی رہنماؤں سے مشاورت کی تھی ،کشمیر کے مسئلے پرچار نکاتی ایجنڈ اپیش کیا تھا ،جس پر پاک بھارت کے درمیان اتفاق ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ خورشید قصوری کی کتاب میں ملک کے خارجی معاملات پر بات کی گئی ہے ،جس میں میرے دور کی خارجہ پالیسی واضح ہے ،خورشید قصوری جب وزیرخارجہ تھے تو اس کو میری مکمل حمایت تھی۔

اس موقع پر خورشید قصوری کاکہنا تھا کہ بھارت کی اکثریت شیو سینا کو پسند نہیں کرتی،شوسینا نے کلکرنی کے چہرے پر کالا پینٹ کردیا تھا،کلکرنی کو کہا کہ چہرہ صاف کرکے تقریب میں بیٹھو مگر اس نے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ شیو سینا کی دھمکیوں کے باوجود بمبئی میں کتاب کی تقریب رونمائی کی ،بھارتی عوام نے کتاب کی پذیرائی کی ، کتاب کی اشاعت کی وجہ اہم حالات کو بیان کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ واجپائی اور من موہن سنگھ نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو آگے بڑھایا ، واجپائی 2007 میں پاکستان میں آتے تو کافی مسائل حل ہوجاتے ، نہ جانے کس نے واجپائی کو پاکستان آنے سے روکا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ میرے دور میں وزراء کو درست سمت میں ہدایات ملتی تھیں،پرویز مشرف کاکہنا تھا کہ پاک فوج مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتی ہے اورپاکستانی فوج بھارت میں امن کے خلاف نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں