site
stats
صحت

خشک میوہ جات کا استعمال دل کے امراض سے بچاتا ہے

امریکہ: خشک میوہ جات کا استعمال دل کے امراض سے بچاؤ اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے میں مفید ہے۔

امریکی ماہرین کی حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ کی خوراک میں خشک میوہ جات کا استعمال کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں کمی لاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق روزانہ سرسٹھ گرام خشک میوہ جات کھانے سے خون میں اضافی کولیسٹرول کی سطح میں غیر معمولی کمی لائی جاسکتی ہے۔ ان میوہ جات میں عام غذا کی نسبت صحت مند چکنائی والےاجزاء، فائبر اور وٹامن موجود ہوتے ہیں، جو دل کےامراض سےبھی محفوظ رکھتے ہیں۔

بادام کا شمار قوت بخش اور غذائیت سے بھرپور خشک میوہ جات میں ہوتا ہے، اس کا استعمال قبض، نظامِ تنفس کی خرابیوں، کھانسی، امراض قلب، خون کی کمی اور ذیابیطس میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہ جلد، بالوں اور دانتوں کی صحت کے لئے بھی مفید ہے، یہ وٹامن ای، کیلیشیم، فاسفورس، فولاد اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتا ہے، اس میں زنک، کیلشیم، تانبا بھی مناسب مقدار میں پایا جاتا ہے۔


کاجو انتہائی خوش ذائقہ میوہ ہے، اس میں زنک کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے استعمال سے اولاد پیداکرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے، کینیڈا میں کی گئی ایک حالیہ طبی تحقیق کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کاجو کا استعمال ذیابطیس کے علاج میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاجو کے بیج میں ایسے قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں، جو خون میں موجود انسولین کو عضلات کے خلیوں میں جذب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔

مونگ پھلی میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی آکسی ڈنٹ پائے جاتے ہیں، جو غذائیت کے اعتبار سے سیب‘ گاجر اور چقندر سے بھی زیادہ ہوتے ہیں، جو کم وزن افراد سمیت باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے بھی نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بل کہ اس کے طبی فوائد کئی امراض سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں، مونگ پھلی میں پایا جانے والا وٹامن ای کینسر کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس میں موجود قدرتی فولاد خون کے نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پستے جسم میں حرارت بھی پیدا کرتے ہیں جب کہ قوتِ حافظہ، دل، معدے اور دماغ کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے متواتر استعمال سے جسم ٹھوس اور بھاری ہو جاتا ہے، پستہ سردیوں کی کھانسی میں بھی مفید ہے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کر کے انہیں صاف رکھتا ہے۔ پستے میں کیلشیم، پوٹاشیئم اور حیاتین بھی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top