The news is by your side.

Advertisement

خلع میں شوہر کی رضا مندی کے بغیر یکطرفہ خلع درست نہیں، مولانا شیرانی

اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ خلع میں شوہر کی رضا مندی کے بغیر عدالت کی یکطرفہ ڈگری درست نہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے دو روزہ اجلاس میں نکاح ، طلاق ، خلع اور خواجہ سراؤں کے مسائل پر غور کیا گیا، کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ عدالتوں کو خلع اور فسق نکاح میں فرق کرنا چاہیئے، خلع میں شوہر کی رضامندی کے بغیرعدالتی ڈگری درست نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کونسل نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ نکاح ،طلاق، خلع معاشرے کی اہم حقیقتیں اور ان سے جڑے ہیں، اہم معاشرتی مسائل اور عدالتوں کو چاہیے کہ وہ خلع اور فسخ نکاح میں فرق کریں، یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تنسیخ نکاح کی دیگر صورتوں کو بھی قانون کا حصہ بنایا جائے اور نئے سرے سے کمپیوٹرائزڈ فارم مرتب کیا جائے ۔

دو روزہ اجلاس کے بعدکونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے نیو ز کانفرنس میں بتایا کہ چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس کو خطوط لکھے جائیں کہ اس قانون کے نفاذ میں مساوی سلوک کیاجائے، مولانا شیرانی کے مطابق کونسل نے فیصلہ کیا کہ خواجہ سراؤں کو الگ طبقہ قرار نہ دیا جائے اورجس خواجہ سرا میں مردوں کے آثار ہوں اسے مردوں میں شمارکیا جائے اور جس میں خواتین کے آثار ہوں اسے خواتین میں شمار کیاجائے اور انہیں خاندان کا حصہ قرار دیا جائے۔

مولانا محمد شیرانی نے خواجہ سراؤں کے مسئلے پر بھی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات سے آگاہ کیا، جس میں خواجہ سرؤاں کو الگ طبقہ قرار نا دینے کی بھی سفارش کی گئی اور کہا کہ خواجہ سراؤں کو الگ طبقہ نا سمجھا جائے۔

کونسل نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے مروجہ قانون کو درست قرار دیا۔

کونسل سے پارلیمنٹ کی مخصوص نشستوں پر ارکان کے انتخاب کے مروجہ طریقہ کارکو فی الحال درست قراردیا، کونسل نے میڈیکل کی تعلیم میں لاش کی استعمال کے مسئلہ پر قواعد و ضوابط جمع کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پی ایم ڈی سی کے حکام کو کونسل کے اجلاس میں مدعو کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں