The news is by your side.

Advertisement

خیبر پختونخوا میں غیراخلاقی فلموں، سٹیج ڈراموں پرپابندی

پشاور:خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار تحریک انصاف کی حکومت نے کیبل پر نشر کیے جانے والی غیر اخلاقی فلموں، سٹیج اورسی ڈیزڈراموں پرپابندی عائد کرنے کے لیے ایک بل صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔

یہ بل منگل کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا۔

بل کے مطابق ’صوبے بھر میں سنسر بورڈز کی اجازت کے بغیر کیبل پر نشر کیے جانے والے اخلاق سے گرے ہوئے مواد اور غیر اسلامی تمام فلموں، ڈراموں اور شوز پر پابندی عائد کی جائے گی جبکہ عوامی مقامات پر فلموں اور ڈراموں کی عکس بندی پر بھی پابندی ہوگی۔

بل میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں کوئی فلم، ڈرامہ یا سٹیج شو سنسر بورڈ کی منظوری کے بغیر نمائش کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں پر تین سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

بل کے تحت صوبے میں ایک سے زائد سنسر بورڈز کا قیام عمل میں لایا جائےگا جبکہ ہر بورڈ چیئرمین سمیت چار ممبران پر مشتمل ہوگا۔

بل کے قانون بننے کے بعد صوبے میں ایک سال کے اندر اندر بننے والی تمام فلموں اور سٹیج ڈراموں کو بھی سنسر بورڈ سے سرٹیفکیٹ لینا ہوگا ورنہ ان پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔

بل کےمطابق اس سلسلے میں درجہ اول مجسٹریٹ کےکسی بھی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی کسی عدالت کو اختیار ہوگا کہ وہ مجسٹریٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے سکے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں کبیل پر ایک عرصہ سے غیر اخلاقی فلمیں اور پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں جس پرعوامی حلقوں کی جانب سے متعدد بار اعتراضات کیے گئے ہیں۔

تاہم حکومت کی جانب سے کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے اس قسم کے مواد میں کچھ عرصہ پہلے تک اضافہ دیکھا جا رہا تھا لیکن آج کل کیبل پرایسا مواد کم ہی نظر آرہا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہےکہ کاپی رائٹ کے قوانین کے نہ ہونے کی وجہ سے فلمیں بنانے والی بڑی بڑی کمپنیوں اور فنکاروں کو بھی خسارے اور مشکلات کا سامنا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں