The news is by your side.

Advertisement

خیرپور میں ایک دن میں دو ٹریفک حادثے، درجنوں افراد زخمی

خیرپور: خیرپورمیں ٹھیڑی بائی پاس پرسٹرک ٹوٹ پھوٹ کاشکارہونے کے باعث حادثے معمول بن گئے ہیں ٹھیڑی بائی پاس پر ایک دن میں دوسراحادثہ ہوا ہے۔ دونوں حادثات میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب پاکستان میں ڈرائیورزکی نیند مسافروں کو ابدی نیندسلارہی ہے۔ ایک لاکھ بائیس ہزار ٹریفک حادثات میں ساڑھے ترپن ہزار اموات ہوچکی ہیں۔

ابھی دس روز قبل ہی ٹھیڑی بائی پاس کے قریب ہونے والے خوفناک مسافر بس حادثے کے ذمےداروں کو کہڑے میں لایا ہی نہیں گیا تھا کہ آج دو اور مسافرکوچز حادثے کا شکار ہو گئیں جس نے انتظامیہ کی نااہلی کا پول کھول دیئے ہیں۔

کئی دعووں اور یقین دہانیوں کے باوجود ایک بار پھر ٹھیڑی بائی پاس کے مقام پر جھٹ پٹ سے مورو جانے والی باراتیوں کی بس الٹ گئی۔ ریسکیو کے مطابق کوچ الٹنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہے۔ زخمیوں کو سول اسپتال خیرپو منتقل کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثہ کوچ کی ایکسل راڈ ٹوٹنے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔

پاکستان میں غیرطبعی اموات کی وجوہات میں ٹریفک حادثات سر فہرست ہیں، کہیں خستہ حال سڑکیں توکہیں ٹوٹی پھوٹی گاڑیاں اور اکثر واقعات میں ڈرائیورکی غفلت درجنوں گھرانوں میں غم کی ان مٹ داستان رقم کرجاتی ہے، پاکستان میں اکثر ٹریفک حادثات میں ڈرائیور کی نیند وہ پہلو ہے جو درجنوں مسافروں کو ابدی نیندسلادیتی ہے،

معاشی مشکلات میں گھراملک کا ڈرائیورطبقہ خوشحال زندگی کے خواب آنکھوں میں بسائے چوبیس چوبیس گھنٹےگاڑیاں سڑکوں پردوڑاتا ہے پھر اچانک کسی موڑ پر پل بھرکیلئے لگنے والی آنکھ دوسرے جہاں میں کھلتی ہے، پاکستان میں سن دوہزار دو سے دوہزار چودہ تک بارہ سال میں لگ بھگ ایک لاکھ بائیس ہزار ٹریفک حادثات ہوئے، جن میں ترپن ہزار سات سو نوے افراد کی زندگیوں کا سفر تمام ہوا، سوالاکھ کے قریب مسافرزخمی ہوئے ان میں چالیس ہزار اپاہج ہوکر زندگی گزاررہے ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں حادثات کی بنیادی وجہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے ساتھ ڈرائیورحضرات کی ضرورت یا لالچ بھی ہے جو زیادہ پیسے کمانے کیلئے آرام کئے بغیر گاڑیاں دوڑاتے رہتے ہیں اور مسافروں کی زندگیوں کا سفر تمام کرتےپھررہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں