site
stats
انفوٹینمنٹ

دنیا تباہی سے صرف تین منٹ کی دوری پر ہے، سائنسدانوں کا انکشاف

 ، سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا تباہی سے صرف تین منٹ کی دوری پر ہے دنیا اپنی تباہی کےقریب پہنچ گئی ہے، علامتی گھڑی کی سوئیاں دومنٹ آگے بڑھ گئیں۔

سائنس دانوں کے مطابق دنیا اپنی ممکنہ تباہی سے تین منٹ کے فاصلے پر ہے، انیس سو سینتالیس میں سائنس دانوں نے دنیا کی تباہی کا وقت جانچنے کیلئے ڈومز ڈے کلاک کا تصور پیش کیا۔

جو ایک علامتی گھڑی ہے، عالمی ماہرین اس گھڑی کی مدد سے قیامت کے وقت کا تعین کرتے ہیں، ماہرین دنیا کے ممکنہ خاتمے کی نشاندہی ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ اورماحولیاتی تبدیلی سے لگاتے ہیں۔ رات کے بارہ بجے کو دنیا کی تباہی سے تعبیر کیا جاتا ہے، مثبت عالمی حالات میں گھڑی کی سوئی خطرے کےنشان سے دور کرد ی جاتی ہے جبکہ اسکے برعکس صورتحال میں خطرے کا وقت قریب آجاتا ہے۔

جاپان پر ایٹمی حملے کے بعد تابکاری اثرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ علامتی گھڑی تشکیل دی گئی، گھڑی کی سوئی کو پہلی بار خطرے کے نشان سے سات منٹ دور رکھا گیا تھا، اس کے بعد سے سوئی کی پوزیشن کو کئی بار بدلا جا چکا ہے۔

امریکا اور سویت یونین کے نیوکلئیر دھماکوں کے بعد سوئیاں خطرے کے نشان کو چھونے لگیں تو انیس تریسٹھ سے باہتر تک تخفیفِ اسلحہ، امن معاہدات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لئےاٹھائے اقدامات نے سوئی خطرے کے نشان سے دور کردی گئی۔ تاہم انڈیا کے ایٹمی دھماکوں، سویت یونین کی افغانستان میں مداخلت نے دنیا کی امن کو تاراج کیا تو گھڑی کی سوئیاں خطرے کے نشان کے قریب آپہنچیں۔

برلن دیوار ، سویت یونین کے ٹوٹنے اور سرد جنگ کے خاتمے سےعلامتی گھڑی میں ایک بار پھر مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی تاہم پاک انڈیا ایٹمی ہتھیاروں کے ٹیسٹ، نائن الیون، شمالی کیوریا کا ایٹمی دھماکہ اور ماحولیاتی آلودگی نے ایک بار پھر دنیا کو تباہی کے کنارے پر لاکرکھڑا کردیا ہے۔

جس کی وجہ سے ماہرین سوئی کی پوزیشن پھر تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے ، دو منٹ کی کمی کے بعد اب گھڑی کا وقت گیارہ بجکر ستاون منٹ ہوگیا ہے اور دنیا تباہی سے صرف تین منٹ کی دوری پر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top