site
stats
اہم ترین

دو انسانوں کو زندہ جلانا جمہوریت اورعدالیہ کی تضحیک ہے، چوہدری نثار

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ سانحہ لاہور کے ردِ عمل کو نظر انداز نہیں کر سکتے، دو افراد کو زندہ جلانا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا بدترین دہشتگردی ہے۔

یوحنا آباد کے گرجا گھروں میں خونی حادثہ اور بد ترین ردعمل نے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو بھی جھنجوڑ ڈالا، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے یوحنا آباد واقعے کی مذمت کی اور بتایا کہ واقعے میں صرف مسیحی نہیں مسلمان بھی جان سے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ لاہور چرچ حملوں میں اکیس افراد کی موت ہوئی، سات مسلمان اور چودہ عیسائی جاں بحق ہوئے جبکہ اکہتر افراد زخمی ہوئے، انھوں نے کہا کہ لاہور واقعہ کے ردعمل میں جو کچھ ہو ا اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا دو انسانو ں کو زندہ جلانے سے عالمی دنیا میں پاکستان کا کیا تاثر گیا ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ گرجا گھروں پر حملہ درندگی ہے مگر اس کا ردعمل بھی بد ترین دہشتگردی سے کم نہیں، دہشتگردی کے واقعات پر اس طرح کا رد عمل افسوسناک ہے۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ امام بارگاہوں ، مساجد اور سکولوں پر حملے ہوئے مگر ایسا ردعمل نہیں آیا۔

وزیرِ داخلہ نے سیکیورٹی خامیوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں عبادت گاہیں ہیں ہر جگہ دو تین اہلکار بھی کھڑے کریں تو باقی ملک کون دیکھے گا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ سانحہ یوحنا آباد کے بعد دو انسانوں کو زندہ جلانے سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کرنے والوں کیخلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائیگی، کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ پوری قوم گزشتہ 14 سال سے حالات جنگ میں ہے، ایک طرف دہشتگرد ہمارے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں اور پھر ہمارے اپنے ہی لوگ ان کا ایجنڈے آگے بڑھائیں تو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد چاہتے ہیں عوام کو خوفزدہ کیا جائے لیکن ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے، دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جاچکا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے آسان اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ چوہدی نثار علی خان نے کہا کہ سکیورٹی ادارے سانحہ شکار پور کے نیٹ ورک تک پہنچ چکے ہیں جنھیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا جبکہ دو ملزمان پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں، سندھ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں میں تعاون بہترہوا ہے، چوہدری نثار پولیس،انٹیلی جنس اداروں کے مربوط رابطے سے کامیابی ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ شفقت حسین کی پھانسی کے معاملے پرسیاست نہ کی جائے، انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مجرم کو پھانسی کی سزا سنائی جب کہ دیگر عدالتوں نے بھی مجرم کو تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد سزا برقرار رکھی تاہم اس پرسیاست سمجھ  میں نہیں آتی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ مجرم کے کم عمر ہونے کے حوالے سے سوشل میڈیا بہت متحرک ہے جبکہ سیاسی بیانات بھی آرہے ہیں، انھوں نے ایوان کو بتایاکہ جیل کے ریکارڈ کے مطابق شفقت حسین کی عمر25 سال ہے حکومت نے سفارش کی تھی کہ مجرم کی عمر کے تعین کیلئے اس کا ڈی این اے کروایا جائے تاہم سندھ حکومت کی جانب سے یہ مراسلہ ملا کہ ڈی این اے عدالتی فیصلوں کے خلاف ہوگا۔

انھوں نے کہاکہ اب بھی اگر کوئی عمر کے حوالے ریکارڈ سامنے آتا ہے تو اس معاملے کو دیکھنے کیلئے تیار ہیں ۔انھوں نے کہا کہ مجرم سے جو سات سال کا بچہ قتل ہوا اس کے لواحقین کے بھی کچھ حقوق ہیں، پیپلزپارٹی دورمیں شفقت حسین کی رحم کی اپیل مسترد ہوئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top