دھماکا پلانٹڈ تھا اور5سے7کلو دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا،ابتدائی تحقیقات -
The news is by your side.

Advertisement

دھماکا پلانٹڈ تھا اور5سے7کلو دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا،ابتدائی تحقیقات

شکار پور: مسجد و امام بارگاہ میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکے سے چھپن افراد جاں بحق متعدد زخمی ہوگئے،ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا پلانٹڈ تھا اور دھماکے میں پانچ سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، شہداء کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی۔

شکار پورکی امام بارگاہ اور مسجد میں جمعے کی نماز کے دوران زور دار دھماکے نے منظر ہی بدل دیا، اطلاعات کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی، دھماکے میں کئی افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں پانچ سے سات کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

 سندھ حکومت کی خصوصی ہدایت پر  شکار پور کی مسجد و امام بارگاہ میں دھماکے کے چودہ شدید زخمی سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے کراچی منتقل کر دیئے گئے، پاک فضائیہ کا طیارہ زخمیوں کو لیکر فیصل بیس پہنچا، جہاں سے ان کو ایمبولینس سے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

اسپتال کے باہر زخمیوں کے ساتھ آنے والے تیمار دار امدادی کارروائیوں میں تاخیر پر برس پڑے، کمشنرکراچی شعیب احمد صدیقی نے فیصل بیس پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چودہ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اس موقع پر کمشنر کراچی نے زخمیوں کو منتقل کرنے پر پاک فضائیہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یاد رہے گزشتہ روز شکار پور کے علاقے لکھی در میں واقع  امام بارگاہ میں دھماکہ اس وقت ہوا جب نمازِ جمعہ ادا کی جارہی تھی ،امام بارگاہ میں نمازیوں کی کثیر تعداد موجود تھی، دھماکہ کے بعد افراتفری پھیل گئی، دھماکے سے مسجد کی چھت منہدم ہو گئی جب کہ قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

جلس وحدت المسلمین نے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے

اس سے قبل جنوری 2013 میں ہی شکارپور شہر سے دس کلومیٹر دور واقع درگاہ غازی شاہ میں بم دھماکے میں گدی نشین سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 شکار پور میں 2010 میں بھی عاشورۂ محرم کے موقع پر ایک مجلس پر حملے کی کوشش کے دوران ایک مشتبہ خودکش بمبار ہلاک ہوا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں