دہشت گردی کیخلاف سول سوسائٹی کا وزیراعلیٰ ہاوس کے باہر دھرنا ختم -
The news is by your side.

Advertisement

دہشت گردی کیخلاف سول سوسائٹی کا وزیراعلیٰ ہاوس کے باہر دھرنا ختم

کراچی :دہشت گردی کیخلاف سول سوسائٹی کا وزیرِاعلیٰ ہاوس کے باہرتیس گھنٹے سے جاری دھرنا سندھ حکومت اور سوسائٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔

سانحہ شکار پور اور دہشت گردی کے واقعات کیخلاف سول سوسائٹی کے افراد نے وزیرِاعلیٰ ہاوس کے باہر دھرنا دیا تھا، مظاہرین نے سندھ حکومت اور کالعدم تنظیموں کیخلاف سخت نعرے بازی کی۔

تیس گھنٹے جاری رہنے والا دھرنا سندھ حکومت اور سوسائٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہوگیا۔

وزیرِاعلیٰ ہاوس کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے مشیر وزیرِاعلی سندھ شرمیلافاروقی کا کہنا تھا کہ سانحہ شکارپور کے زخمیوں کاعلاج کرایا جائے گا اور ساتھ ہی پندرہ دن کے اندر وال چاکنگ کے خلاف مہم شروع کی جائے گی۔

گزشتہ روز بھی وزیرِاعلی سندھ کے مشیر وقار مہدی نے شرکاء سے مذاکرات کئے تاہم مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔

سول سوسائٹی کے ارکان جب وزیراعلٰی ہاؤس پہنچے تو پولیس کی جانب سے انہیں قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی، پولیس اور مظاہرین میں تلخ کلامی کے بعد شرکاء نے پی آئی ڈی سی چوک پر ہی احتجاجی دھرنا دے دیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے دہشتگردوں کے خلاف بینرز بھی اٹھا رکھے ہیں، دھرنے کے بعد وزیرِاعلٰی جانے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا تھا۔

شرکاء کا مطالبہ تھا کہ حکومت سندھ میں تمام کالعدم تنظیمیں اور انکے سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کرے اور کالعدم تنظیموں کے دفاتر کو بند کیا جائے، مظاہرین کا کہنا تھا کہ سانحہ شکارپورکے زخمیوں کو کراچی منتقل کرکے بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں