The news is by your side.

Advertisement

نائن زیرو آپریشن پر تحقیقاتی ٹیم قائم کر دی گئی ہے، وزیراعلی سندھ

کراچی: وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، نائن زیرو آپریشن پر تحقیقاتی ٹیم قائم کر دی گئی ہے ۔
سعید آباد پولیس سینٹر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ نائن زیرو سے گرفتار افراد کا کیس عدالت میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نائن زیرو سے گرفتار افراد کا ریمانڈ پولیس نےعدالت سے لے لیا، مزید کاروائی بھی قانون کے تحت ہوگی، پولیس اور رینجرز کراچی سمیت سندھ میں جرائم کے خلاف قابل فخر اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری،اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کورینجرز اور پولیس نے کنٹرول کیا ہے۔

قائم علی شاہ نے دہشت گردی کے خلاف وفاق کے تعاون اور پولیس رینجرز کی قربانیوں کو سراہا۔

وزیرِاعلی سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی سے جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لئے آپریشن ایم کیو ایم کی مشاورت سے شروع کیا جب کہ پولیس اور رینجرز شہر قائد سمیت صوبے بھر میں جرائم کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔

پولیس کی 87ویں پاسنگ آوٴٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس اوررینجرز نے کراچی سمیت صوبے بھر میں مل کر بہت کام کیا، جس کی وجہ سے کراچی سے کشمور تک اغوا برائے تاوان کا ایک بھی کیس موجود نہیں، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کے خلاف پولیس اور رینجرز مل کرکام کریں اورکراچی سمیت صوبے بھر سے جرائم کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کا مسئلہ ملک بھر میں ہے جب کہ کراچی میں کئی سالوں سے حالات خراب ہیں تاہم عوام کو ہماری حکومت سے بہت سی توقعات ہیں اور سندھ حکومت شہرقائد میں قیام امن کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔

وزیرِاعلی سندھ کا کہنا تھا کہ آرمی کے ریٹائرڈ کرنلز سے پولیس جوانوں کی تربیت کرائی جارہی ہے تاکہ کسی بھی سنگین صورتحال سے با آسانی نمٹا جا سکے جب کہ پولیس کو اپ ڈیٹ کرنا اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل تھا، جس کے پیش نظر پولیس ملازمین کی تنخواہیں پنجاب پولیس کے برابر کرتے ہوئے رواں سال پولیس بجٹ 60 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

پولیس شہدا کے معاوضے سے متعلق وزیراعلی سندھ نے کہا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کے لئے معاوضہ 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر20 لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں