site
stats
اے آر وائی خصوصی

ربِ کعبہ کی قسم آج علی(کرم اللہ وجہہ) کامیاب ہوگیا

آج ملک بھر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یومِ شہادت منایا جارہا ہے عالم اسلام میں آپ کی اہمیت مسلمہ ہے آپ ایک بہادر سالار، ایک جید عالم ، ایک انتہائی سخی انسان اور پیغمبراسلام صلی علیہ وآلہ وسلم کے داماد تھے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ 13 رجب 599ء (24 قبل‌ہجری) کو شہرمکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب علیہ السّلام اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آۓ اوروہیں پرورش پائی۔ پیغمبرکی زیرنگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت کرم اللہ وجہہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اسلام کا اظہارکیا آپ کی عمراس وقت تقریبا13 سال تھی۔

جہاد


سلام کی پہلی لڑائی غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے اس جنگ میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے عزیزوں کو پہلے خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبیدہ ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوئے، حضرت علی ابن ابو طالب کرم اللہ وجہہ کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا حضرت کرم اللہ وجہہ کے سررہا .جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبراور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہ کراپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے۔ غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمروبن عبدود کو جب آپ نے مغلوب کرلیااوراس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پربیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پرلعب دہن پھینک دیا۔ آپ کو جلال آگیااور آپ اس کے سینے پرسے اتر ائے صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پرہاتھ نہیں اٹھایا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔

خدمات


جہاد سمیت اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کسی کام کے کرنے میں آپ کو انکار نہ تھا۔ یہ کام مختلف طرح کے تھے رسول کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنا، خطوط تحریر کرنا آپ کے ذمہ تھا اور لکھے ہوئے اجزائے قرآن کے امانت دار بھی آپ تھے۔ اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے ليے پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو روانہ کیا جس میں آپ کی کامیاب تبلیغ کا اثریہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا جب سورہ براَت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ کے ليے بحکم خدا آپ ہی مقرر ہوئے اورآپ نے جا کرمشرکین کو سورہ براَت کی آیتیں سنائیں۔ اس کے علاوہ بھی رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہر خدمت انجام دینے پر تیار رہتے تھے یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جوتیاں اپنے ہاتھ سے سی رہے ہیں۔ حضرت کرم اللہ وجہہ اس سب کو اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے تھے۔

بعدِ رسول ﷺ


پیغمر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد آپ اسلام کی روحانی اورعلمی خدمت میں مصروف رہے قرآن کو ترتیب، نزول کے مطابق ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا، مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا۔ بہت سے ایسے شاگرد تیار کئے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کیلئے معمار کاکام انجام دے سکیں،زبان عربی کی حفاظت کیلئے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا

خلافت


سن 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت اسلامی کامنصب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے پیش کیا . آپ نے اسے اس شرط سے منظورکیا کہ میں بالکل قران اور سنتِ پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی۔

آپ کے دورِحکومت میں جمل، صفین اورنہروان جیسی خون ریز لڑائیاں ہوئیں جن میں حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ نے اسی شجاعت اوربہادری سے جنگ کی جو بدر،احد، خندق، خیبرمیں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اورزمانہ کو یاد تھی۔

آپ نےاپنی مختصرمدّت خلافت میں اسلام کی سادہ زندگی، مساوات اورنیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے، آپ خلیفہ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پربیٹھنا اوراپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے، پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے، غریبوں کے ساتھ زمین پربیٹھ کر کھاناکھالیتے تھے، جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پربرابرسے تقسیم کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ کچھ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگرآپ نے انکارکردیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو خیر یہ بھی ہوسکتا تھا مگریہ تمام مسلمانوں کا مال ہے مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیزکو دوسروں سے زیادہ دوں۔

شہادت


حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو 19 رمضان40ھ (660ء) کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نمازمیں عبدالرحمن ابن الملجم نامی شخص نے زہرمیں بجھی ہوئی تلوار سے آپ کے سراقدس پرعین حالتِ سجدہ میں وارکیا، زخمی ہونے پر آپ کے لبوں پر جو پہلی صدا آئی وہ تھی کہ ’’ربِ کعبہ کی قسم آج علی کامیاب ہوگیا‘‘۔

جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہرگزاس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے۔

دو روز تک حضرت علی کرم اللہ وجہہ بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخرکار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن علیہ السلام و حضرت حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پرنجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top