رمضان المبارک کا اعتکاف اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ -
The news is by your side.

Advertisement

رمضان المبارک کا اعتکاف اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ

کراچی: رمضان المبارک کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی تلاش میں اہل ایمان دنیا سے کٹ کر اپنا ناطہ اس واحد بزرگ و برترہستی سے جوڑ لیتے ہیں ،جس کی بادشاہت لازوال ہے۔

ویسے تو پورا رمضان المبارک ہی رحمتوں اور برکتوں سے مامور ہے لیکن آخری عشرے میں مسجد میں اللہ رب العزت کی خوشنودی کے لئے اعتکاف کرنا رسول کریم کی سنت ہے۔  عالم دین اعتکاف کرنے والے اپنی تمام تر توجہ عبادات، تسبیحات، اور اذکار کی طرف مرکوز کرکے دنیا سے ناطہ توڑ لیتے ہیں۔

ہر سال کی طرح رواں سال بھی ملک بھر سے لاکھوں افراد اعتکاف میں بیٹھنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں، یہ لوگ اللہ تعالی کے مہمان  ہوتے ہیں، اعتکاف میں شرکت کیلئے لوگ عصر کے وقت مساجد میں داخل ہوتے ہیں اور شوال المبارک کا چاند نظر آتے ہی اعتکاف ختم ہوجاتا ہے۔

اعتکاف کے اجتماعات میں آئمہ و خطبا قرآن کی تفاسیر بیان کریں گے، اعتکاف کے اجتماعات میں ملک کی سلامتی و استحکام ، دہشت گردی کے خاتمے اور امت مسلمہ کی سربلندی کیلیے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی ،آخری عشرے کی طاق راتوں میں مسلمان پوری رات اللہ کے حضور عبادات کرتے ہوئے اپنی حاجات و مناجات پیش کریں گے، شہر بھر میں رمضان کی21 شب سے محافل شبینہ منعقد ہوں گی جن سے علمائے کرام خطاب کریں گے شہر کی بیشتر مساجد میں معتکفین کو مساجد کی انتظامیہ اور مخیرحضرات کی جانب سے سحری و افطار فراہم کی جائیگی۔

اعتکاف کے مسائل اور اجتماعی اعتکاف کی شرعی حیثیت

٭ اعتکاف کا مطلب کسی چیز پر متوجہ ہونا اور اس کی تعظیم کی خاطر اس سے لگ جانا۔ شریعت میں اعتکاف کا مطلب ہے اپنے آپ کو خدا کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے مسجد میں مقید کردینا۔، (مفردات راغب، ص342)۔

قرآن کریم کی روشنی میں

  ’’اور یاد کرو ! جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہونے کا مرکز اور جائے امن بنایا اور بنالو ابراہیم کے کھڑے ہو نے کی جگہ کو جائے نماز اور ہم نے ابراہیم واسماعیل کو تاکید کی کہ میرا گھر پاک رکھو!طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں، رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کیلئے۔

حدیثِ پاک کی روشنی میں
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں۔

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دن اعتکاف بیٹھتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے آپ کووفات دی۔ پھر آپ کے بعد (بھی) آپ کی ازواجِ مطہرات اعتکاف بیٹھتی رہیں۔ (بخاری و مسلم)۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبار ک کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے، ایک سال نہ بیٹھے، گلا سال آیا تو بیس دن اعتکاف فرمایا، (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)۔

 امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک معتکف ایک لمحہ کیلئے بھی بلاضرورت مسجد سے باہر نکلا تو اس کا اعتکاف جاتا رہا، قیاس یہی ہے کیونکہ اعتکاف مسجد میں ٹھہرنے کا نام ہے اور باہر نکلنا اسے ختم کر دیتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ منورہ تشریف لائے آپ نے اعتکاف کبھی نہیں چھوڑا ۔ حتی کہ اپنی عمر عزیز کے آخری برس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے دو عشروں کا اعتکاف کیا ۔

اعتکاف کا وقت بیسواں روزہ ختم ہونے کے وقت غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند ہونے تک باقی رہتا ہے’خواتین کو مسجد میں اعتکاف نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان کا اعتکاف گھر میں ہی ہو سکتا ہے۔

حضور اکرم کا فرمان ہے کہ اعتکاف کرنے والا گناہوں سے بچا رہتا ہے اور جس نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کر لیا اس کا عمل ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کر لے۔

رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز کے ساتھ ہی منہاج القرآن کے زیر اہتمام شہر اعتکاف آباد ہوگیا، ہزاروں فرزندان توحید دنیا سے ناطہ توڑ کر اپنے رب کے مہمان بن گئے ہیں۔

ملک بھر کی طرح اسلام آباد راولپنڈی میں بھی ہزاروں فرزندان اسلام اللہ تعالی کی قربت اور رضا کے لئے اعتکاف بیٹھ گئے۔

رمضان المبارک کا عشرہ مغفرت شروع ہوتے ہی، مغفرت کےطلبگار پروردگار کی رضا کے لئے دنیاوی کامو ں کو چھوڑکر اعتکاف میں بیٹھ گئے،رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

 متعکفین اعتکاف کے دوران تلاوت قرآن اور نوافل اداکرتے ہیں، آخری عشرے کی طاق راتوں لیلتہ القدر کی تلاش کی جاتی ہے رات بھر عبادت کی جاتی ہے۔

 رمضان المبارک کا آخری عشرہ پروردگار عالم کی جانب سے اپنے گنہگار بندوں کے لیے رحمت ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دنیا کو ترک کرکے اپنے رب کے مہمان بن گئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں