site
stats
اے آر وائی خصوصی

رمضان میں نمازِتہجد پڑھنے کی فضیلت

رمضان المبارک ماہ برکات و فیضان ہے اور رمضان کی رحمتیں اور نعمتیں اور شخص کے لئے جاری ہیں بس فائدے میں وہ ہے جو اس مہینے کی اہمیت سمجھے اوراسے ہاتھ سے نا جانے دے،تہجد ویسے بھی انتہائی اہمیت کی حامل نمازہے جسے سارا سال پڑھنا چاہیئے لیکن رمضان میں تو اسے خصوصیت کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔

رمضان المبارک کے دوران حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تہجد کی ادائیگی کے بارے میں معمول مبارک یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز تہجد میں آٹھ رکعت ادا فرماتے‘ جس میں وتر شامل کر کے کل گیارہ رکعتیں بن جاتیں۔ تہجد کا یہی مسنون طریقہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا

عليکم بقيام الليل فانه داب الصالحين قبلکم

(سنن الترمذی‘2: 194‘ کتاب الدعوات‘ رقم حديث : 3549)

’’تم پر رات کا قیام (نماز تہجد) لازمی ہے کیونکہ تم سے صالحین کا یہ عمل رہا ہے۔‘‘

فضائل نماز تہجد


نماز تہجد تمام نفلی نمازوں میں افضلیت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

شرف المومن صلاته بالليل و استغناؤه فی ايدن الناس

(سلسله الاحاديث الصحيحة‘ 4: 526‘ رقم حديث: 1903)

’’مومن کی بزرگی قیام اللیل میں ہے اورعزت لوگوں سے استغناء میں ہے۔‘‘

نماز تہجد میں مداومت اختیار کرنے سے بندہ اپنے رب کی نظر میں وہ مقام و مرتبہ حاصل کرلیتا ہے کہ اسے عزت و وقاراور شانِ استغناء نصیب ہوتی ہے‘ جس کے صلے میں اسے دنیا میں کسی کے آگے دست سوال دراز کرنے کی حاجت نہیں رہتی اور اس کی جبین نیاز آستانہ خداوندی کے سوا اور کسی در پر نہیں جھکتی۔ بندہ جب اپنے رب سے تعلق آشنائی محکم و پختہ تر کر لیتا ہے تو اس کی زندگی علامہ اقبال ۔رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعرکی عملی تفسیر بن جاتی ہے۔

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی

راتوں کی تنہائی میں خدا سے رازونیاز اوراس کے آگے گڑگڑا کرتضرع و زاری کے ساتھ دعائیں مانگنے سے بندہ دنیا سے مستغنی ہو جاتا ہے اورکسی فرعون کو خاطر میں نہیں لاتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے شب زندہ دار اور نماز تہجد کی خاطر قیام اللیل کرنے والوں کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

عن ابن عباس رضی الله عنه‘ قال: قال رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم : اشراف امتی حملة القرآن و اصحاب الليل۔

(شعب الایمان‘ 2: 557 ‘ رقم حدیث: 2703)

میری امت کے برگزیدہ افراد وہ ہیں جو قرآن کو (اپنے سینوں میں) اٹھائے ہوئے ہیں اور شب بیداری کرنے والے ہیں‘‘۔’’

امت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ پاک باز اور قدسی صفات مردان باخدا ہیں‘ جن کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا

إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا

(القرآن، المزمل‘ 73 : 6)

بیشک رات کا اٹھنا نفس کو سختی سے روندتا ہے اور (وقت دعا دل و زبان کی یکسانیت کے ساتھ) سیدھی بات نکلتی ہے‘‘۔’’

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top