The news is by your side.

Advertisement

رواں سال کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قدرمیں نمایاں اضافہ

سال دوہزار تیرہ پاکستانی روپے کی کیلئے کسی رولو کوسٹر رائڈ سے کم نہ تھا۔ رواں سال جہاں ڈالر کی قدر مجموعی طور پر میں چودہ روپے کا اضافہ ہوا تو وہیں وزیر خزانہ کے ایک بیان پرڈالر کی قدر میں تین روپے تک کی کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔


رواں سال کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فاریکس اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری دوہزار کو ڈالر کی قیمت ستانوئے روپے ستر پیسے تھی جو فروری میں اننانوئے روپے ہوگئی۔

مارچ سے مئی تک ڈالر کی قیمت اپ ڈاؤن ہوتی رہی تاہم جون میں ننانوئے روپے ستر پیسےہوگئی،جس کے بعد ڈالر کو پر لگ گئے اور جولائی میں ڈالر کی قیمت سوروپے پچاس پیسے ، اگست میں ایک سو دو روپے دس پیسے ،ستمبر میں میں ایک سو چار روپے پچاس پیسے اور اکتوبر میں ایک چھ روپے پچپن پیسے ہوگئی۔

نومبر میں ایک سو سات روپے بیس پیسےہوئی جبکہ اسی دوران ڈالر ایک سو گیارہ روپے سے بھی تجاوز کر گیا، جس پرحکومت ایکشن میں آئی تاہم یہ ایکشن بے سود گیا اورڈالر ایک سونوروپے پچپن پیسے پر آ کررک گیا اور آخر کار رواں ماہ میں ڈالر کی قدر ایک پانچ روپے ہوگئی۔

مگر آئی ایم ایف کی ادائیگیوں کے باعث ایک بار پھر ڈالر کی قدر میں اضافہ کا رجحان دیکھا گیا۔ روپے کی بے قدری نے قومی خزانے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پاکستان کے مجموعی قرضے چھ سو ارب روپے بڑھ گئے جبکہ مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذاخائر تین ارب انیس کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں