site
stats
صحت

سائیکو تھراپی سے ڈپریشن کا علاج ممکن ہے

پاکستان میں ڈپریشن کے مرض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے سائیکو تھراپی سے اس مرض کا علاج ممکن ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق معاشرے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، معا شی تنگیوں اور رویوں کی تبدیلی ڈپریشن کی اہم وجوہات ہیں، یہ قابلِ علاج مرض ہے اور انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ساتھ سائیکو تھراپی اوراودیات سے اس کا علاج ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق انفرادی اور اجتماعی طور پر سوچ اور رویے میں مثبت تبدیلی اور آپس کے تعلقات میں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھا جائے تو ڈپریشن کا خدشہ کم کیا جا سکتا ہے۔

بعض لوگوں میں ڈپریشن کی کوئی خاص وجہ ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ بہت سے لوگوں کو جو اداس رہتے ہیں اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، اپنی اداسی کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔اس کے باوجود ان کا ڈپریشن بعض دفعہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ انھیں مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈپریشن میں اکثر لوگوں کو اپنے احساسات کسی با اعتماد شخص کے ساتھ شیئر کرنے سے طبیعت بہتر محسوس ہوتی ہے۔بعض دفعہ اپنے احساسات رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ بانٹنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ماہر نفسیات  سے بات کرنا زیادہ آسان لگتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال لگ بھگ 10 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں، جن کی ایک بہت بڑی تعداد ڈیپریشن کا شکار ہوتی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک حاملہ خاتون بھی زچگی سے قبل ڈیپریشن کا سامنا کرتی ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیپریشن کا مرض دنیا کے تمام خطوں میں موجود ہے اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک اس سے یکساں متاثر ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top