The news is by your side.

Advertisement

سال 2013 قومی ایئرلائن کیلئے بدترین خسارے کا سال

پی آئی اے انتظامیہ کی بدنظمی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے مالیاتی خسارے کی اڑان آسمان کی جانب ہے، سال 2013 بھی قومی ایئرلائن کیلئے بدترین خسارے کاسال ثابت ہوا، خسارہ 200 ارب روپے سے زائد تجاوز کرگیا۔

قومی ایئرلائن ، باکمال لوگ لاجواب سروس اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے، فضاؤں کا سینا چیرتے ہوئے پی آئی اے کے جہاز کبھی پاکستانیوں کے مکمل اعتماد اور دنیا بھر میں پاکستانی وقار کی علامت سمجے جاتے تھے مگر شاہانہ اڑان کو انتظامیہ کی بدنظمی اور ناقص حکمت عملی لے ڈوبی۔

 گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی کوتاہیوں کی وجہ سے قومی ایئرلائن کا موازنہ زوال کی جانب سے گامزن دیگر اداروں کے ساتھ کیا جانے لگا، پروازوں کی روانگی میں تاخیر معمول بن گیا۔

انجنوں کی عدم دستیابی اور طیاروں کے گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے بڑھتا ہوا خسارہ قومی ایئرلائن کو ایک ایسی کھائی میں دھکیل دیا، جس پر حکومت کو قومی ایئرلائن کی نجکاری کا فیصلہ کرنا پڑا، پرزہ جات نہ ہونے کی وجہ سے دس سے زائد طیارے بدستور گراؤنڈ ہیں، جو ادارے پر بوجھ بن رہے ہیں۔

انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے قومی ایئرلائن کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں بھی کمی آنا شروع ہوگئی، جس کی وجہ سے قومی ایئرلائن کو مزید خسارے سے دوچار ہونا پڑرہا ہے، پی آئی اے میں گذشتہ چند برسوں کے دوران انتظامیہ تبدیلی کے باعث ہر آنے والے سربراہ نے بلند باگ دعوے کیے اب تو سال بیت گیا مگر بات اب بھی جوں کی توں ہے، اس کے مستقبل کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں