The news is by your side.

Advertisement

سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر جے آئی ٹی رپورٹ ایک پولیس رپورٹ ہے، فروغ نسیم

کراچی: ایم کیوایم کے سینیٹر فروغ نسیم کا کہناہے سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی دوسال بعد عدالت میں پیش کی گئی وہ اسی بنیاد پر ہی خارج ہو جائیگی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ الطا ف حسین نے شیریں مزاری سے معافی مانگی ، بڑے لوگ معافی مانگتے ہیں، الطا ف حسین ایک بڑے لیڈرہیں ، نیلسن منڈیلا کے بعدریجن میں اگر کوئی بڑا لیڈر ہے تووہ صرف الطاف حسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر جسٹس (ر) زاہد قربان علوی کاجوڈیشل کمیشن بیٹھ چکا ہے اوراس جوڈیشل کمیشن میں باقاعدہ یہ رپورٹس اور شواہد موجود ہیں کہ کس طرح سے فیکٹری میں شارٹ سرکٹ ہوا ہے جنھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جبکہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی رپورٹ میں اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ ”فلاں فلاں “ نے یہ کہا تھا۔

 سینیٹر بیر سٹر فروغ نسیم نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر جے آئی ٹی رپورٹ ایک پولیس رپورٹ ہے ، پولیس رپورٹ کیلئے اور جے آئی ٹیز کیلئے پاکستان کا قانون یہ ہے کہ اس کی کوئی قابل قدر استدلالی حیثیت نہیں ہے ،لائق سماعت ہے، وہ پیش ہوگی اور اس کواس کی اہمیت کے تناظر میں دیکھاجائے گا کہ یہ رپورٹ اگر دو ڈھائی سال کے بعد پیش کی گئی ہے تو یہ خود بخود جے آئی ٹی رپورٹ کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ اسی بنیاد پر ہی نکل جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اسد عمر صاحب کے خلاف ہم قانونی چارہ جوئی کریں گے یا نہیں کریں گے یہ پارٹی کا فیصلہ ہے ،انہوں نے کہا کہ میں نے تو عمران خان یا کسی اور لیڈر کو معافی مانگتے نہیں دیکھا جبکہ ان سے بھی غلطی ہوسکتی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں