The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ انتقال کرگئے

سعودی عرب کے فرمان روا خادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ اکیانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے، ان کی تدفین آج بعد نماز عصر ریاض میں ہوگی۔

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن فیصل بن ترکی بن عبداللہ بن محمد بن سعود خادم الحرمین الشریفین یکم اگست 1924ء کو ریاض پیدا ہوئے  وہ سعودی عرب کے ساتویں بادشاہ اور آل سعود گھرانے کے سربراہ بھی تھے، یکم اگست 2005ء کو انہوں نے اپنے رضاعی بھا ئی شاہ فہد کی وفات کے بعد سعودی تخت سنبھالا۔

شاہ عبداللہ پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھے ۔ شاہ عبداللہ کو پچھلے ماہ طبیعت بگڑنے پر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا, کمر میں تکلیف کے باعث ان کے دو آپریشن ہو چکے تھے, وہ 2010 میں تین ماہ تک امریکہ میں بھی زیرِ علاج رہے۔

شاہ عبداللہ عبدالعزیز مرحوم کا شمار سعودی عرب کے ان حکمرانوں میں ہوتا ہے، جن کے دورِ حکومت میں ملک نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں غیر معمولی ترقی اور خوش حالی کے نئے باب رقم کیے، شاہ عبداللہ کی کامیابیوں کا سلسلہ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ معیشت، تعلیم، صحت سوشل ویلفیئر، نقل وحمل، مواصلات، صنعت، بجلی، پانی، زراعت، تعمیرات ہر شعبہ ہائے زندگی میں انہوں نے ماضی کی نسبت سعودی عرب کو زیادہ ترقی یافتہ بنا دیا۔

ان کے دورِ حکومت میں سعودی عرب نے تعلیم کے شعبے میں شاندار ترقی کی، اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے قیام سے چار لاکھ چھبیس ہزار مردو خواتین اساتذہ کو روزگار فراہم کیا گیا۔

خواتین کو بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کاحق دیا، شاہ عبداللہ مسلم اُمہِ کے اتحاد کے زبردست داعی تھے، انہوں نے ہر مشکل وقت میں اسلامی اٰمہ خصوصا پاکستان کی بھرپور مدد کی۔

سعودی فرمانرواں شاہ عبداللہ نے پاکستان سے مستحکم اور مضبوط تعلقات کے لیے قابلِ تحسین کوششیں کی اور ہر کڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ عبدالعزیز نے پاکستان میں قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے خطیر رقم سے کئی منصوبے شروع کیے، شاہ عبدالعزیز کی جانب سے پاکستان میں پانچ ہزار مکانات ،چالیس سے زائد تعلیمی درس گاہوں ،پچاس مساجد اور صحت عامہ کے پچیس یونٹس کے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔

سعودی ریلیف آرگنائزیشن کے تحت پاکستان میں قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور درس و تدریس کی بحالی کےفوری اقدامات کیے جاتے ہیں، سعودی فرمانرواں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے پاکستان میں دوہزار گیارہ کے سیلاب، کشمیر میں خوفناک زلزلے اور سندھ اور بلوچستان میں قحط زدہ علاقوں میں متاثرین کی امداد کے لیے قابل ستائش اقدامات کیے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں