The news is by your side.

Advertisement

سندھ اپیکس کمیٹی: افغان مہاجرین کونکلنےکیلئے دسمبر کی ڈیڈلائن

کراچی: اپیکس کمیٹی کی ذیلی عمل درآمد کمیٹی نے سندھ سے27لاکھ افغان مہاجررواں برس واپس بھیجنے کا اعلان کردیا ،صوبے میں اب کوئی مدرسہ، مسجد، عبادت گاہ اجازت کے تعمیر نہیں ہوسکے گی۔

 کراچی میں اپیکس کمیٹی کی ذیلی عمل درآمد کمیٹی کے اجلاس میں غیر قانونی طورپرمقیم افغان باشندوں کی واپسی کے لیے آخری ڈیڈلائن رواں سال دسمبر دیدی گئی۔ محکمہ داخلہ سندھ میں ہونے والے اجلاس میں محکمہ داخلہ، پولیس ، رینجرز، افغان رفیوجیز ، کمشنراور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ سے 64 مقدمات ملٹری کورٹس میں چلانے کیلئے وفاقی وزارت داخلہ بھیجوادیے گئے ہیں، جبکہ مزید بیس مقدمات جائزے کیلئے وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کیے گئے ہیں۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس وقت تقریباً 27لاکھ افغانی موجود ہیں ،ان میں 67ہزار کی رجسٹریشن ہوچکی ہے جبکہ 85ہزار کیمپوں میں مقیم ہیں ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ تقریباً 25ہزار افغانیوں نے غیر قانونی طور پر قومی شناختی کارڈز حاصل کررکھے ہیں ، اس سلسلے میں بہت جلد ان کے کارڈز منسوخ کردیئے جائیں گے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں اس وقت تقریباً ایک ہزار مدارس رجسٹرڈ ہیں ،جہاں پر تقریباً 2848غیر ملکی طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔واضح رہے کہ صوبے میں ایکشن پلان سیل محکمہ داخلہ میں قائم کردیا گیا ہے ،سیل صوبے میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا۔

صوبائی اپیکس کمیٹی کی سب کمیٹی کے اجلاس کے بعد سیکریٹری داخلہ عبدالکبیر قاضی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا سندھ حکومت نے نادرا کے ساتھ کرائم ٹریکنگ کا معاہدہ کرلیا ہے، جس کے ذریعے جرائم میں ملوث افراد کا ڈیٹا رکھا جاسکے گا۔

صوبے میں انسداد دہشتگردی کا محکمہ بھی قائم کردیا گیا ہے، جس کا مرکز کراچی میں ہوگادہشتگردوں کو رکھنے کیلئے الگ جیل کے قیام کا بھی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

جس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشتگردی کے دفاتر قائم کیے جائینگے،جس کا مرکز کراچی ہوگا جبکہ حیدرآباد اور سکھر میں ریجنل مراکز ہونگے ۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ صوبے میں کوئی مدرسہ، مسجد، یا عبادت گاہ اجازت کے بغیر نہیں بن سکے گی اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کی جائیگی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں