site
stats
پاکستان

ملک بھر سے جلسے میں شرکت کیلیے جیالوں کی کراچی آمد

کراچی: مزار قائد سے منسلک باغ جناح کراچی میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریاں مکمل کر لیں گئی۔ ملک بھر سے پی پی کے جیالوں کے قافلے شہر میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہے جبکہ مزید قافلے بسوں ،ٹرینوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کے ذریعے شہر قائد کی جانب رواں دواں ہیں۔

سیاسی کھیلاڑیوں کا کہنا ہے کہ بلاول اپنے سیاسی کیرئیرکا آغاز اس اہم جلسے سے شروع کر نے والے ہیں اور ان کی جانب سے اس سلسلے میں اہم خطاب بھی متوقع ہے۔

دوسری جانب سانحہ کارسازکےشہداکی یادگار پر پی پی کے کارکنوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہےاور شہدا کی یاد میں یادگار پر پھولوں کی چادر کے ساتھ ساتھ چراغاں بھی کیا جارہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کے جلسے میں شرکت کیلئے ملک بھر سے قافلے روانہ ہو گئے ہے۔ لاہور میں خصوصی ٹرین کے ذریعے کارکنوں کی بڑی تعداد روانہ ہوچکی ہے۔ جبکہ ملتان اور دیگر شہروں سے بھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچے گی۔

لاہور ریلوے اسٹیشن پر کارکنوں کو روانہ کرتے ہوئے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو کا کہنا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر کا جلسہ قدامت پرست اور ترقی پسند قوتوں کے درمیان فرق واضح کرے گا، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ترقی پسند سیاست پر یقین رکھتی ہے، پنجاب سے لاکھوں کارکن جلسے میں شرکت کرینگے۔

فیصل آباد سے بھی پیپلزپارٹی کے کارکن اکیس بسوں اور ٹرین کی آٹھ بوگیوں پر کراچی کے جلسے میں شرکت کیلئے روانہ ہوچکے ہے۔

گھوٹکی سے صوبائی وزیر سردار علی نواز مھر کی قیادت میں کارکنوں کا قافلہ شہر قائد کی جانب رواں دواں ہے۔ اس قافلے میں گھوٹکی کی مختلف تحصیلوں سے دو سو پچاس چھوٹی بڑی گاڑیوں میں سیکڑوں کارکنان سوار ہیں۔

دوسری جانب گلگت سے تین بسوں پر مشتمل پیپلزپارٹی کے کارکنوں کا قافلہ کراچی پہنچ چکا ہے ۔ سکرنڈ سے پیپلز پارٹی کا قافلہ پیدل سفر طے کرتے ہوئےکراچی میں سانحہ کارساز کے شہدا کی یادگار پر پہنچ گیا ہے۔

شہر کے بیشتر مقامات پر کارکنوں کیلیے استقبالیہ کیمپ بھی لگائے گئے ہے جو جلسہ گاہ کے حوالے سے جیالوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

خبروں کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے باغ جناح کے جلسے میں میوزیکل کنسرٹ کا بھی انتظام کیا گیا۔

جبکہ گزشتہ رات بوٹ بیسن پر آتشبازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top