site
stats
پاکستان

سندھ میں سرکاری اسکولوں کی حالت زار قابل رحم

کراچی :صوبہ سندھ میں متعدد سرکاری اسکول حکومت کی عدم توجہی کے باعث یا تو غیر فعال ہیں تو کہیں ان کانام صرف کاغذوں تک ہی محدود ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ بھرمیں چھ ہزار سات سو اکیس سرکاری اسکول غیر فعال جبکہ دوہزارایک سواکیاسی صرف کاغذوں میں آبادہیں۔

کراچی میں گھوسٹ اسکولوں کی تعدادپچیاسی ہے، علم کی روشنی جہالت کےاندھیرےمٹاتی ہے،حکومت سندھ نے اس حکایت کوکچھ اس طرح سمجھاکہ صوبے بھرمیں گھوسٹ اور غیر فعال درسگاہوں کا انبارلگا دیا۔

اعدادوشمار کے مطابق صوبہ سندھ میں چھ ہزار سات سو اکیس سرکاری اسکول غیر فعال جبکہ دوہزارایک سو اکیاسی اسکولز صرف کاغذوں میں موجود ہیں ۔

صرف یہی نہیں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گھوسٹ اسکولز کی تعداد پچاسی ہے جن میں سےضلع جنوبی میں اننچاس، ضلع شرقی میں تیس،اورضلع غربی میں چاراسکول غیرفعال ہیں۔

ضلع وسطی میں دو اسکولوں کی عمارتوں پر قبضہ ہے۔رپورٹ کے مطابق سندھ بھرمیں اڑتالیس ہزاردوسوستائیس سرکاری اسکول قائم ہیں۔

ان اسکولوں میں سے ساڑھے چارہزار اسکولوں کی عمارتیں تو ہیں مگر درس دینے کیلئے معلم سمیت کوئی بندوبست نہیں، جبکہ سواپانچ سو اسکولوں کی عمارتوں کو مویشیوں کے باڑے میں تبدیل کردیاگیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top