The news is by your side.

Advertisement

سوات کی 14 سالہ لڑکی کم عمری میں شادی کے خاتمے کیلئے کوشاں

سوات : خاص طور پر ایک نوجوان لڑکی کے لئے ایک قدامت پسند معاشرے کی ذہنیت اور روایات کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوتا۔

حدیقہ بشیر نامی ایک لڑکی نے کم عمری میں شادی کے خاتمے کا چیلنج لے لیا اور سوات کے علاقے میں کم عمری کی شادی کے خلاف جدوجہد شروع کر دی ہے۔

حدیقہ بشیر کا کہنا تھا کہ میری سات سالہ بہن کی شادی ہونے والی تھی ، جس کے بعد میں نے اس معاملے کو اٹھایا اور شادی ملتوی ہوگئی، ایک کمیونٹی میں اس طرح کی شادیوں کو معیاری سمجھا جاتا ہے جہاں لڑکیوں کو تنازعہ کے حل یا خاندان میں زمین رکھنے کے لئے کے بدلے میں شادی کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔

حدیقہ بشیر دوسری لڑکیوں اور ان کے والدین میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اپنی بیٹیوں کو ان کی تعلیم مکمل کروانا کتنا فائدہ مند ہیں۔

حدیقہ سماجی کارکنوں کے ایک خاندان سے تعلق رکھتی ہے، ان کے خاندان والے بھی حدیقہ کے حامی ہے اور وہ اچھی طرح واقف ہے کہ حدیقہ کے لئے یہ ایک مشکل کام ہے

یاد رہے کہ سوات کا علاقہ 2007 سے 2009 تک پاکستانی طالبان کے کنٹرول میں تھا، اس علاقے کے لوگ بنیادی حقوق کے لئے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں