site
stats
پاکستان

سپریم کورٹ:دھرنوں کے خلاف حکم جاری کرنے کی استدعا مسترد

اسلام آباد: سپریم کورٹ نےدھرنوں کے خلاف حکم جاری کرنے کی درخواست مسترد کردی، عدالت نےغیرآئینی اقدام سے متعلق کیس میں تحریک انصاف سے کل تحریری جواب طلب کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ میں ممکنہ ماورائے آئین اقدام اوردھرنوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالتی بینچ نے کی۔ اعلیٰ عدالت کے نوٹس پر تحریک انصاف کے وکیل حامد خان پیش ہوئے جبکہ پاکستان عوامی تحریک کی جانب سےکوئی وکیل حاضر نہیں ہوا۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ عوامی تحریک کے ورکرز نے شاہراہ بلاک کر رکھی ہے، ان کی تقریر بھی اشتعال انگیز ہے، اُنہیں روکا جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس حوالے سے حکم جاری نہیں کریں گے، یہ معاملات ہینڈل کرنا حکومت کا کام ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک نے حامد خان سے کہا کہ آپ کےجو بھی سیاسی مطالبات ہے، ہمارا اس سےکوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ہم اس میں مداخلت کریں گے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنے مطالبات سے بیشک ایک انچ پیچھے نہ ہٹیں لیکن شاہراہ دستور سے چند فٹ پیچھے ہٹ جائیں تاکہ آمد و رفت کا راستہ کھل جائے۔

جس پر حامد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے شاہراہ دستور پر راستہ روکا ہے نہ ہی کسی شخص کو کسی بھی عمارت میں آنے جانے سے روکا جارہا ہے، جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کا موقف قابل ستائش ہے لیکن اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنائیں، اعلیٰ عدالت نے تحریک انصاف سےتحریری جواب طلب اور پی اے ٹی کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top