site
stats
اہم ترین

سیاست میں تجارت کا گھٹیا الزام لگایا گیا، اعتزازاحسن

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اعتزاز احسن چوہدری نثار کے گزشتہ روز لگائے جانے والے الزام پر بھڑک اٹھے، انھوں نے کہا کہ وزیراعظم سے کہا تھا کہ اپنے آس پاس دیکھیں، کہیں گھر کو آگ لگانے والےقریب تو نہیں بیٹھے۔ آمروں کے خلاف جدوجہد کی ہے۔

سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ میں ممنون ہوں کہ وزیراعظم نے مجھ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے معافی بھی مانگی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ مجھ پرلینڈ مافیا کی وکالت اورایل پی جی کوٹہ لینےکاالزام لگایا، اس پر بات کرنا میرا حق ہے۔ آمروں کے خلاف جدوجہد کی ہے۔،

اعتزاز احسن نے کہا کہ میری سیاست کو 50 سال ہوگئے ہیں، میرے خاندان نے تحریک پاکستان میں کم عمراور معمر ترین قیدی دیئے، جنرل پرویز مشرف کو بھگانے میں بھی میرا چھوٹا سا کردار رہا ہے۔


PM Nawaz Should Know The Arsonists Within Party… by arynews

انھوں نے کہا کہ  مشرف کے دور مجھے طارق عزیز نے کہا کہ آپ ہاں کہہ دیں آپکو وزیراعظم بنا دیں گے لیکن میں نے  وزیراعظم بننے کی پیشکش بھی ٹھکرا دی۔

انھوں نے کہا کہ میاں صاحب میں نے اور خورشید شاہ نے مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس کا مشورہ دیا، جو آپ کی طاقت بن رہا ہے، لیکن جب پارلیمنٹ میں آپ کے پیچھے اپوریشن کھڑی ہوئی تو آپ کے وزراء کی بوڈی لینگوئیج ہی بدل گئی۔

اعتزاز احسن نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو پہلے سے آپ کو چھوڑ چکے ہوں، آپ کب تک ان کی صفائیاں دیتے کرتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایل پی جی کا بزنس میری بیوی کرتی ہے ۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ مجھے ٹھنڈا ہونے کا مشورہ دینے والے خود جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اعتزاز احسن کی گفتگو کے دوران وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کچھ کہتے ہوئے پائے گئے، جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ چوہدری نثار ابھی بھی دھمکیاں دے رہےہیں۔

انھوں نے کہا کہ چوہدری نثار ابھی بھی وزیراعظم کو آنکھیں دکھا رہے ہیں، اب میں کیا کروں، اعتزاز احسن نے کہا کہ مجھے دیکھنے کے بجائے چوہدری نثار باہر کھڑے مجمعے کو دیکھیں۔

اعتزاز احسن اپنے خطاب کے دوران اچانک رکے اور چوہدری نثار کی طرف اشارہ کہا کہ یہ اب بھی مجھے گھور رہے ہیں، یہ سمجھتے ہیں میں ڈرنے والا ہوں، اعتزاز احسن اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور چوہدری نثار پر تلخ جملوں کے وار شروع کردیئے، کہنے لگے کہ چوہدری نثار اب بھی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

اسپیکر ایاز صادق نےاعتزاز احسن سے کہا کہ آپ میرے بڑے بھائی اور استاد بھی ہیں، تلخی کو کم کریں، اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار مجھے اور وزیراعظم کو بھی گھور رہے ہیں۔۔۔۔  چوہدری نثاراعتزاز احسن کی جانب سے تلخ جملوں کا سامنا نہ کر سکے اور ایوان سے اٹھ کر جانے لگے تو پیچھے بیٹھے خواجہ سعد رفیق نے کندھوں سے پکڑ کر بٹھایا۔

اعتزاز احسن کے سارے خطاب کے دوران وزیراعظم نواز شریف بار بار چوہدری نثار کا ہاتھ پکڑ کےاُن کا غصہ ٹھنڈا کرتے رہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top