سیاسی پیشرفت :کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے اثرات زائل -
The news is by your side.

Advertisement

سیاسی پیشرفت :کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے اثرات زائل

سیاسی بحران کےحل ہونےکے حوالےسے پیشرفت کی خبر پرکراچی اسٹاک مارکیٹ گرکر سنبھل گئی۔کولیشن سپورٹ فنڈکےڈالرز ملنےسےروپےکا زوال بھی رک گیا۔ جمعرات کو بازار حصص کراچی میں کاروبارکا آغاز مسلسل چوتھےروز بھی مندی سےہوا اور دوران ٹریڈنگ مارکیٹ کو 450 پوائنٹس تک نیچےجاتے ہوئےبھی دیکھاگیا۔

تاہم سیاسی حلقوں کی جانب سےبحران حل ہونےکے حوالےسےمثبت خبریں آنےپرمارکیٹ بندہونےسےقبل سرمایہ کاروں نے شئیرز واپس خریدنا شروع کردیئےجس سےمندی کے اثرات زائل ہوگئے۔ کاروبارکےاختتام پر 450 پوائنٹس کی مندی صرف 37 پوائنٹس تک محدودہوگئی اورہنڈری انڈیکس 27774 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اسی طرح کرنسی مارکیٹس میں بھی کاروبارکے آغاز پر روپےکی قدر دبائو کاشکار نظر آئی۔تاہم امریکہ سےکولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت 37کروڑ ڈالر ملنےکی خبر آنےکےبعد روپےکی قدر میں بہتری آئی اور انٹربینک میں امریکی ڈالر کی قیمت صرف بارہ پیسےبڑھکر ایک سو دو روپے30پیسےپر بند ہوئی جو دوران ٹریڈنگ 103روپےکےقریب جاپہنچی تھی۔

واضح رہے کہ بدھ کو بازار حصص کراچی میں مسلسل تیسرے روز بھی مندی کا رجحان دیکھا گیاتھا۔مثبت آغاز اور چند لمحات کی تیزی کےبعد فوراً ہی مارکیٹ مندی کا شکار ہوگئی تھی اور پھرتمام دن منفی زون میں رہی۔ایک موقع پر مارکیٹ میں ساڑھے چھے سو پوائنٹس کی گراوٹ بھی دیکھی گئی اور انڈیکس میں اٹھائیس ہزار پوائنٹس کی اہم حد برقرار نہ رہ سکی۔

بدھ کو شئیرمارکیٹ 432 پوائنٹس کی حتمی کمی کا شکار ہوکر ستائیس ہزار آٹھ سو گیارہ پوائنٹس پر بند ہوئی تھی۔ادھر مرکزی بینک کے نوٹس لینےکےبعد دوسرے روز بھی کرنسی مارکیٹس میں صورتحال سنبھلی رہی۔انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت پندرہ پیسےکم ہوکر 102 روپے18 پیسے پر بند ہوئی جبکہ اُوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 102 روپےسےنیچےآگیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں