سندھ : سینیٹ الیکشن، زرداری کی جوڑ توڑ کی سیاست کا امتحان -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ : سینیٹ الیکشن، زرداری کی جوڑ توڑ کی سیاست کا امتحان

اسلام آباد: سندھ میں سینیٹ الیکشن کیلئے آصف زرداری کی جوڑ توڑ کی اطلاعات نے سیاسی قائدین کی ننیدیں اڑا دی ہیں۔

سینیٹ کی سات جنرل نشستوں کیلئے تین جماعتوں کے آٹھ خواہشمند میدان میں ہیں، پیپلزپارٹی کے پانچ،ایم کیو ایم کے دواور فنکشنل لیگ نے ایک امیدوارکو میدان میں اتارا ہے، صوبے میں اصل مقابلہ سینیٹ کی ایک نشست پر پی پی اور فنکشنل لیگ کے درمیان ہے

وزیرِاعظم نواز شریف نے جوڑ توڑ کے تدارک کے لیے بائیسویں ترمیم کا ڈول ڈالنے کی کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے، البتہ پپپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف زرداری ایک بار پھر سیاسی حکمت عملی کے ذریعے متحدہ قومی موومنٹ کو رام کرکےاپنے دو ارکان پہلے ہی بلامقابلہ منتخب کراچکے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کو بھی دو نشستیں مل گئیں ہیں۔

فارمولے کے حساب سے ایک امیدوار کو سینیٹر بننے کے لئے چوبیس ووٹ درکار ہیں، گزشتہ روز پی ایس اکیاسی پر الیکشن ٹریبونل کے فیصلے بعد فنکشنل لیگ ایک سیٹ سے محروم ہوگئی ہیں، جس کے بعد اسمبلی میں اسکے ووٹوں کی تعداد گیارہ سے کم ہوکر دس رہ گئی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کےدس امیدواروں کی حمایت بھی اپوزیشن امیدوار امام الدین شوقین کو حاصل ہے۔

پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ جتوئی خاندان کے تین اور دیگراپوزیشن اراکین بھی پی پی کو ووٹ ڈالیں گے، گزشتہ دنوں ارباب غلام رحیم اور لیاقت جتوئی کی سربراہی میں بننے والا اتحاد کسی بھی امیدوار کی فتح اور شکست میں اہم کردار ادا کرسکتا ہےجبکہ پی پی کے منحرف رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مراز کے صاحبزادے کس کو ووٹ ڈالیں گے یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔

تحریک انصاف کے سینیٹ انتخابات میں حصہ نہ لینے کے عمل نے اس نشست کی اہمیت کو دو چند کر دیا ہے۔

کے پی کے میں جاوید نسیم کے معاملے کے بعد تحریکِ انصاف نے پارٹی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں سے سختی سے نمٹنےکی بات کی ہے۔

ادھر پی پی، جے یو آئی اور اے این پی ایک فارمولے کے تحت مشترکہ امیدواروں کی حمایت پر متفق ہوگئے ہیں،  پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کیجانب سے سینٹ انتخابات میں بنائے جانیوالے گروپس کے سربراہان اپنے امیدواروں کی کامیابی کیلئے پُرامید ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں