The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ کی 52نشستوں پر131ارکان کے درمیان معرکہ کل ہوگا

اسلام آباد: سینیٹ کی باون نشستوں پرمعرکہ کل ہوگا، ایک سو اکتیس امیدوار میدان میں ہیں۔

وفاق سےسینیٹ انتخابات کی ایک جنرل اورایک خواتین نشست کیلئے چھ امیدواروں کے درمیان معرکہ ہوگا، شہرِ اقتدار اسلام آباد سے سینیٹ کی ایک جنرل اور ایک خواتین نشست پر معرکہ ہوگا، عام نشست کیلئے تین امیدوار میدان میں ہیں، ن لیگ نے سینئر رہنماء اقبال ظفر جھگڑاور چوہدری محمداشرف گجر کو نامزد کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے راجا عمران اشرف سینیٹ میں جانے کیلئے قسمت آزمائی کر رہے ہیں، خواتین کی ایک نشست کیلئے تین امیدوار سینیٹر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں، حکمران جماعت مسلم لیگ ن نےراحیلہ مگسی اورنرگس ناصر کو نامزد کیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے نرگس فیض ملک سینیٹ الیکشن لڑرہی ہیں۔

فاٹا سے سینیٹ کی چار نشستوں کیلئے انیس آزاد امیدواروں سمیت مسلم لیگ ن کے ثناءاللہ خان دوڑ میں شامل ہیں، انتخابات میں فاٹا سے بیس امیدوار میدان میں ہیں، آزاد امیداروں میں سعید انور محسود، عبدالرازق، سجاد حسین، ملک نوراکبر، انجینیئر طاہر اقبال اورکزئی،عباس آفریدی، اورنگزیب خان، نظیرخان، محمد دین، حاجی خان ، مومن خان، تاج محمد آفریدی، شاہ محمد، ملک سیف الرحمان، باز گل، محمد طیب، ملک نادرخان، قسمت خان وزیر،عین الدین شاکر سینیٹر بننےکے خواہشمند ہیں، فاٹانشستوں کیلئے ووٹنگ قومی اسمبلی میں ہوگی، جس میں فاٹا سے منتخب اراکین اسمبلی حصہ لیں گے۔

پنجاب سے سینیٹ کی گیارہ نشستوں کے لئے سولہ امیدوار میدان میں ہیں، مسلم لیگ ن نے سندھ کے تین امیدواروں کو پنجاب سے منتخب ہونے کا موقع دیا ہے، پنجاب میں مسلم لیگ ن نے جنرل نشستوں کیلئے نو اور پیپلز پارٹی نے ایک امیدوار میدان میں اتارا ہے، ن لیگ کی جانب سے وزیرِاطلاعات پرویزرشید دوسری بار سینیٹر بننےکی دوڑ میں شامل ہیں۔

سندھ سے تین امیدواروں کو ن لیگ نے پنجاب سے منتخب ہونے کا موقع دیا ہے، جن میں مشاہداللہ خان، سلیم ضیاء اور نہال ہاشمی شامل ہیں، اسٹیل ملز کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈعبد القیوم بھی لیگی ٹکٹ پر سینیٹ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، ڈاکٹرغوث محمد نیازی،خواجہ محمود احمد، چوہدری تنویر اور سعود مجیدن لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر بننےکے خواہشمند ہیں۔

ندیم افضل چن جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے واحد امیدوار ہیں، ٹیکنو کریٹ نشستوں پرمسلم لیگ ن کے راجہ ظفرالحق امیدوار ہیں، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میرعلماء کی نشست پر ن لیگ کے اتحادی امیدوار ہیں، پیپلزپارٹی کی جانب سےٹیکنوکرٰیٹ نشست پر نوشیرخان لنگڑیال امیدوار ہیں۔

خواتین کی نشستوں پر مسلم لیگ ن کی دونوں امیدوارلاہور سےتعلق رکھتی ہیں، نجمہ حمید دوسری بار سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں جبکہ عائشہ رضافاروق رکن قومی اسمبلی ہیں، ٹوبہ ٹیک سنگھ سےتعلق رکھنے والی ثروت ملک پیپلز پارٹی کی امیدوار ہیں۔

سینیٹ الیکشن کیلئے سندھ اسمبلی گیارہ میں سے چار نشستوں پر پی پی ایم کیوایم نے اتحاد کرکے چار سینیٹرز منتخب کرلئے، سات نشستوں کیلئے آٹھ امیدوار ڈور میں شامل ہیں، خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو دو نشستوں پر پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کا اتحاد ہوگیا ہے، سندھ اسمبلی سے سینیٹ کی سات جنرل نشستوں کیلئے آٹھ امیدوار مدمقابل ہیں، صرف ایک نشست کیلئے زور آزمائی کی جائے گی۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے اسلام الدین شیخ، عبدالرحمان ملک، عبدالطیف انصاری، گیان چند اور سلیم مانڈوی والا سینیٹرز بننے کے خواہشمند ہین، متحدہ قومی موومنٹ نے میاں محمد عتیق شیخ، خوش بخت شجاعت کو سینیٹ الیکشن کیلئے ٹکٹ دیا ہے جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کےامام الدین شوقین بھی سینیٹر بننےکی دوڑ میں شامل ہیں۔

امام الدین شوقین کو حکمراں جماعت ن لیگ کی حمایت حاصل ہے، خواتین کی مخصوص نشستوں پر پیپلزپارٹی کی سسی پلیجو اور ایم کیو ایم کی نگہت مرزا جبکہ ٹیکنو کریٹس کی نشستوں پر پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائک اور ایم کیو ایم کے بیرسٹرسیف بلامقابلہ سینیٹرز منتخب ہوچکے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں سینیٹ کی ایک نشست کیلئےاکیس ایم پی ایز کی ضرورت پڑے گی، اس طرح پیپلز پارٹی کے چار اور متحدہ قومی موومنٹ کے دو امیدواروں کی کامیابی یقینی نظر آرہی ہے البتہ مسلم لیگ فنکشنل کے امیدوار سے پیپلزپارٹی کا مقابلہ ہوگا۔

خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی بارہ نشستوں کے لئے ستائس امیدوار میدان میں ہیں، حکمران اتحاد کو اکہتر ارکان کیساتھ ایوان میں واضح برتری حاصل ہے، کے پی کے کی حکمران جماعت پی ٹی آئی کے محسن عزیز، شبلی فراز اور لیاقت خان ترکئی انتخاب لڑ رہے ہیں ،امیرجماعتِ اسلامی سراج الحق بھی اس دوڑمیں شامل ہیں۔

جے یوآئی ف کے مولاناعطاء الرحمان اور منظور خان آفریدی جنرل نشست کے امیدوار ہیں، پیپلزپارٹی نے خان زادہ عالم اور نور عالم خان کو میدان میں اتارا ہے، اے این پی کے حاجی عدیل مسلم لیگ ن کے جنرل(ر) صلاح الدین اور قومی وطن پارٹی کے عمار احمد خان انتخاب لڑ رہے ہیں جبکہ بارہ  مارچ کو ریٹائرڈ ہونے والے سابق سینیٹر وقار احمد خان آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔

ٹیکنو کریٹ کی دونشستوں پر چھ امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں پی ٹی آئی کے نعمان وزیر ،قومی وطن پارٹی کے عبدالمالک، اے این پی کے افراسیاب خٹک ،جے یو آئی کے شیخ یعقوب، مسلم لیگ ن کے جاوید عباسی اور پی پی کے ہمایوں خان شامل ہیں ۔

خواتین کی دو نشستوں کے لئے پی ٹی آئی کی ثمینہ عابد، مسلم لیگ ن کی شاہین حبیب اللہ پیپلزپارٹی کی شازیہ طہماس جے یوآئی ف کی شافیہ امجد اور اےاین پی کی ستارہ ایاز میدان میں ہیں جبکہ فوزیہ فخرالزمان آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑ رہی ہیں۔

اقلیتوں کی نشست کیلئے تحریک انصاف کے بریگیڈئیر(ر) جان کینت ویلیمز ، اےاین پی کے امرجیت ملہوترا اور جے یو آئی ف کے جیمز اقبال آمنے سامنے ہیں۔ کے پی کے اسمبلی میں حکمران اتحاد کو اکہتر نشستوں کیساتھ واضح برتری حاصل ہے۔

بلوچستان میں سینیٹ کی بارہ نشستوں پر اڑتیس امیدوار مدِمقابل ہیں، بلوچستان میں سینیٹ کی سات جنرل نشستوں پرچودہ کھلاڑی قسمت آزمائیں گے، مسلم لیگ ن نے سینیٹ میں انٹری کیلئے میر نعمت اللہ زہری، سردار یعقوب خان ناصر اور امیر افضل خان مندوخیل کو ٹکٹ دیا ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نےعثمان خان کاکڑ اور سردار اعظم موسٰی خیل کو نامزد کر رکھا ہے، نیشنل پارٹی کی جانب سے پارٹی کےصدر میر حاصل خان بزنجو، ڈاکٹر یاسین بلوچ اور میر کبیر احمد میدان میں اتریں گے، جمعیت علمائےاسلام نے مولانا غفور حیدری جبکہ بی این پی مینگل نے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کو میدان میں اتارا ہے۔

جنرل نشستوں پر آزاد امیدواروں میں احمدخان، سابق سینیٹر میر یوسف بادینی، نیشنل پارٹی سےمنحرف محمداسلم بلیدی اور حسین اسلام شامل ہیں، ٹیکنوکریٹ کی دونشستوں پر سات امیدواروں کے درمیان مقابلہ متوقع ہے، مسلم لیگ ن نے آغا شہبارخان درانی، پشتو نخوامیپ نے ڈاکٹرعبدالمناف ترین اور نیشنل پارٹی نے ڈاکٹر یاسین بلوچ، میرکبیر احمد اور مختیار چھلگری کوٹکٹ دیا ہے ۔

جے یو آئی ف کے ملک سکندرخان ایڈووکیٹ اور آزاد امیدوار بسنت لعل گلشن بھی ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پرالیکشن لڑرہے ہیں، خواتین کی دو نشستوں پر پانچ امیدوارسینیٹ میں جانے کیلئے قسمت آزمائیں گی جبکہ ایک اقلیتی نشست پرپانچ امیدواروں کےدمیان مقابلہ متوقع ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں