سینیٹ کی 52 میں سے36 نشستوں کےغیرحتمی نتائج مکمل -
The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ کی 52 میں سے36 نشستوں کےغیرحتمی نتائج مکمل

اسلام آباد: سینیٹ کے آج ہونے والے انتخابات کے بعد ایک سو چار کے ایوان میں منتخب ارکان کی تعداد اٹھاسی ہوگئی ہے، پیپلز پارٹی موجودہ صورتحال میں چھبیس اراکین کی حمایت کے ساتھ سرفہرست ہے۔

سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادیوں کو ایوان میں نمایاں برتری حاصل ہوگئی ہے، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم، ق لیگ ، مسلم لیگ فنکشنل، عوامی نیشنل پارٹی کو ملا کرپیپلز پارٹیٰ او ر اس کے اتحادیوں کی تعداد سینتالیس ہوگئی۔

وفاقی دارلحکومت سے سینیٹ کی ایک جنرل اور ایک خواتین نشست پر معرکہ ہوا، غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر اقبال ظفر جھگڑا دوسوگیارہ ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوگئے ۔

 ان کے مد مقابل پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار راجہ عمران کو اڑسٹھ ووٹ ملے، گیارہ ووٹ مستردہوئے۔

 اسلام آباد سے خواتین کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ ن کی امیدوار راحیلہ گل مگسی دوسوپانچ ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں، ان کے مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار نرگس فیض ملک نے اکہتر ووٹ حاصل کئے۔

مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی میں جھاڑوپھیر دی, گیارہ میں سے گیارہ نشستوں پر اپنے امیدوار جتوا دئیے۔

نواز شریف نے پارٹی پر گرفت ثابت کر دی،ایک جانب خیبر پختونخوا میں شور شرابہ ہوتا رہا تو دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ جاری رہی اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے اتنخابی تجزیوں پر جھاڑو پھیرتے ہوئے تمام نشستیں جیت لیں۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق سینٹ کی سات جنرل سیٹوں، دو ٹیکنو کریٹ اور دو خواتین کی نشستوں پر مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کر لی جبکہ اپوزیشن کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔

 پنجاب سے سینیٹ کی جنرل نشست پر پرویز رشید، مشاہد اللہ، چوہدری تنویر ، غوث نیازی ، نہال ہاشمی ، سلیم ضیا اور عبدالقیوم کامیاب ہوئے، جبکہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر ن لیگ کے راجا ظفر الحق اور ساجد میرسینیٹر منتخب ہوئے، اور غیر حتمی نتائج کے مطابق خواتین کی نشست پر نجمہ حمید اور عائشہ رضا نے میدان مارلیا۔

سینیٹ کے اس الیکشن میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس بار پنجاب اسمبلی سے تین ایسے امیدوار جیتے ہیں جن کا تعلق صوبہ پنجاب سے نہیں، پنجاب اسمبلی سے سینیٹر بننے والےسلیم ضیا، مشاہد اللہ خان، اورنہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے ہے، پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور ق لیگ کی خاموش مفاہمت بھی بے ثمر ثابت ہوئی۔

 پیپلزپارٹی اوراس کی اتحادی جماعت ایم کیوایم نے سندھ میں کلین سوئپ کرکےن لیگ اور فنکشنل لیگ کو اپ سیٹ کردیا۔

سندھ میں ن لیگ اورفنکشنل لیگ کو اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑگیا، پیپلزپارٹی اور اتحادیوں نے کلین سوئپ کردیا۔

جنرل نشستوں پر پیپلزپارٹی کے پانچوں امید وار کامیاب ہوگئے،جن میں شامل ہیں اسلام الدین شیخ، رحمان ملک عبداللطیف انصاری، سلیم مانڈوی والااور انجنیئر گیان چند کامیاب ہوئے، جبکہ دو نشستوں پرایم کیوایم کے امید وارمیاں عتیق اور خوش بخت شجاعت کامیاب ہوئے۔

دونوں جماعتوں کے دو دو سینیٹر بیرسٹر سیف ،نگہت مرزا اور فاروق ایچ نائیک اور سسی پلیجو پہلے ہی بلامقابلہ ہی منتخب ہوچکے ہیں۔

فنکشنل لیگ کے امام الدین شوقین جنہیں ن لیگ کی بھی حمایت حاصل تھی صرف تیرہ ووٹ ہی حاصل کرپائے جب کہ پارٹی پوزیشن کے مطابق انہین اٹھارہ ووٹ ملناتھے،یعنی کہ پانچ ارکان سندھ اسمبلی نے اپنی ہی جماعت کےامیدواروں کوووٹ نہیں دیا۔

بلوچستان سے سینٹ کی 12 نشستوں پر 25امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا، جن میں چار آزاد امیدوار بھی شامل تھے‘ صبح نو بجے سے شام چار بجے تک بلوچستان اسمبلی کے 65ارکان اسمبلی نے اپنا حق رائے دیہی استعمال کیا ۔

اب تک کی غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن)  پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے تین تین امیدوار جبکہ بی این پی مینگل اور جے یو آئی (ف)کے ایک ایک امیدواروں کے علاوہ ایک آزاد امیدوار نے بھی جنرل نشست پر کامیابی حاصل کی۔

جنرل سیٹوں پر نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو ، پشتونخوا میپ کے محمد عثمان کاکڑ اور اعظم موسیٰ خیل ، جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری ، مسلم لیگ ن کے نعمت اللہ زہری ، بی این پی مینگل کے جہانزیب جمالدین اور آزاد امیدوار یوسف بادینی نے کامیابی حاصل کر لی۔

 ٹیکنوکریٹ کی دو سیٹوں پر نیشل پارٹی کے کبیر محمد شہی اور مسلم لیگ ن کے آغا شہباز درانی کامیاب ہو گئے، خواتین کی دو نشتوں پر پشتونخواہ میپ کی گل بشریٰ اور مسلم لیگ ن کی کلثوم پروین کامیاب ہو گئیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ کی سات جنرل دو ٹیکنو کریٹ دو خواتین اورایک اقلیتی نشست پر پچیس امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا پولنگ شروع ہوئی تو سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات لگا دیئے۔ نوبت ہنگامہ آرائی تک پہنچی تو ووٹنگ کا عمل روک دیا گیا تھا۔تاہم 8 بجے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا لیکن حتمی نتائج تاحال نہیں آئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں