site
stats
اے آر وائی خصوصی

شاعرومزاح نگارابن انشا کو کوچ کئے 37 برس گئے

کراچی :  معروف شاعر اور مزاح نگار ابنِ انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، جن کی طبع میں سیلانی، لغت رومانی، شعر میں آہنگ میر سی روانی اور نثر میں شعورِ عصر سے جولانی تھی۔

تصنیفات میں چاند نگر، دلِ وحشی ، اس بستی کے اک کوچے میں ، آوارہ گر د کی ڈائری ، دنیا گول ہے ، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہیں تو چین کو چلئے ، نگری نگری پھرا مسافر، خمارِ گندم ، اردو کی آخری کتاب اور خط انشا جی کے۔شامل ہیں۔

مزاح کے پردے میں ملکی و بین الاقوامی سیاست پر بلیغ طنز انہی کا طرہ امتیاز ہے، پیروڈی کا انداز، وسعت معلومات، سیاسی بصیرت اور صورتِ واقعہ سے مزاح کشید کرنا وہ خاص عناصر ہیں جن کی بدولت ابن انشاءکو ’ادبی لیجینڈ‘ کا تاج ملا۔

مشتاق احمد یوسفی نے ابن انشاءکے مزاحیہ اسلوب کے حوالے سے لکھا “بچھو کا کاٹا روتا اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے۔ انشا جی کا کاٹا سوتے میں مسکراتا بھی ہے۔

” چاند کسے پیارا نہیں لگتا؟ لیکن انشاپر تو چاند نے جادو سا کر رکھا تھا

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا ترا،

زمانہ شوق سے سن رہا تھا مگر چاند نگر کا یہ دیوانہ گیا رہ جنو ری انیس سو اٹھتر دنیا سے کو چ کر گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top