شاعر مشرق علامہ اقبال کا137واں یوم پیدائش -
The news is by your side.

Advertisement

شاعر مشرق علامہ اقبال کا137واں یوم پیدائش

لاہور: شاعر مشرق علامہ اقبال کا 137واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔ یوم اقبال کے موقع پر مزار اقبال لاہور پرگارڈزتبدیلی کی پُر وقارتقریب منعقد کی گئی۔

نظریہ پاکستان پیش کرنےوالےشاعرمشرق علامہ اقبال کاایک سوسینتیسواں یوم پیدائش آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں مزار اقبال پرگارڈز تبدیلی کی تقریب ہو ئی جس کے مہمان خصوصی نیوی کموڈور ایس ایم شہزاد نے مزار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔

علامہ محمد اقبال کے ایک سو سینتیس ویں یوم پیدائش کے موقع پر مزاراقبال پر گارڈز تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی کر دوران پاک نیوی کے دستے نے پاکستان رینجرز کی جگہ شاعر مشرق کے مزار پرگارڈ کے فرائض سنبھالئے۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بھی مزار اقبال پر حاضری دی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔ مزار پر قومی ترانے کی دھن بجا کر شاعر مشرق کو سلامی دی گئی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، تقریب میں عسکری حکام، طلبا اور شہریوں کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔

تاریخ اقبال

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہو ئے۔ وہ بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کا شمار اردو اور فارسی کے اہم ترین شاعروں میں ہوتا تھا اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ انھوں نے شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ انھوں نے “دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام” کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی۔

علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

علامہ اقبال 9 نومبر1877ء بمطابق 3 ذیقعد 1294ھ کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیال کوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کیا ہے۔ اقبال کے آبا ؤ اجداد قبول اسلام کے بعد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے۔ شیخ نُور محمد دیندار آدمی تھے۔ بیٹے کے لیے دینی تعلیم کو کافی سمجھتے تھے۔ علامہ کے والد کےسیالکوٹ کے اکثر مقامی علماء کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ اقبال بسم اﷲ کی عمر کو پہنچے تو انھیں مولانا غلام حسن کے پاس لے گئے۔ مولانا ابوعبداﷲ غلام حسن محلہ شوالہ کی مسجد میں درس دیا کرتے تھے۔ یہاں سے اقبال کی تعلیم کا آغاز ہوا۔

علامہ نے سولہ برس کی عمر میں اقبال نے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ فرسٹ ڈویژن آئی اور تمغا اور وظیفہ ملا۔ اسکاچ مشن اسکول میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسیں بھی شروع ہوچکی تھیں لہٰذا اقبال کو ایف اے کے لیے کہیں اور نہیں جانا پڑا ، وہیں رہے ، یہ وہ زمانہ ہے جب ان کی شاعری کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ اس وقت پورا برصغیر داغ کے نام سے گونج رہا تھا ۔ خصوصاً اُردو زبان پر ان کی معجزانہ گرفت کا ہر کسی کو اعتراف تھا ۔ اقبال کویہی گرفت درکار تھی ۔ شاگردی کی درخواست لکھ بھیجی جو قبول کر لی گئی ۔ مگر اصلاح کا یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔ داغ جگت استاد تھے ۔ متحدہ ہندوستان میں اردو شاعری کے جتنے بھی رُوپ تھے ، ان کی تراش خراش میں داغ کا قلم سب سے آگے تھا ۔ لیکن یہ رنگ ان کے لیے بھی نیا تھا ۔ گو اس وقت تک اقبال کے کلام کی امتیازی خصوصیت ظاہر نہ ہوئی تھی مگر داغ اپنی بے مثال بصیرت سے بھانپ گئے کہ اس ہیرے کو تراشا نہیں جاسکتا ۔ یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ اصلاح کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔

علامہ نے 1895ء میں ایف اے کیا اور مزید تعلیم کے لیے لاہور آگئے ۔ یہاں گورنمنٹ کالج میں بی اے کی کلاس میں داخلہ لیا اور ہاسٹل میں رہنے لگے ۔ اپنے لیے انگریزی ، فلسفہ اور عربی کے مضامین منتخب کیے ۔ انگریزی اور فلسفہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتے اور عربی پڑھنے اورینٹل کالج جاتے جہاں مولانا فیض الحسن سہارنپوری ایسے بے مثال استاد تشریف رکھتے تھے۔  1898ء میں اقبال نے بی اے پاس کیا اور ایم اے (فلسفہ)میں داخلہ لے لیا۔ یہاں علامہ کو پروفیسر ٹی ڈبلیوآرنلڈ کا تعلق میسّر آیا۔ جنھوں نے آگے چل کر اقبال کی علمی اور فکری زندگی کا ایک حتمی رُخ متعین کر دیا۔

مارچ 1899ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پنجاب بھرمیں اوّل آئے۔ اس دوران میں شاعری کا سلسلہ بھی چلتا رہا، مگر مشاعروں میں نہ جاتے تھے ۔ نومبر 1899ء کی ایک شام کچھ بے تکلف ہم جماعت انھیں حکیم امین الدین کے مکان پر ایک محفلِ مشاعرہ میں کھینچ لے گئے۔ سُننے والوں کا ایک ہجوم تھا ۔ اقبال چونکہ بالکل نئے تھے، اس لیے ان کا نام مبتدیوں کے دور میں پُکارا گیا۔ غزل پڑھنی شروع کی، جب اس شعر پر پہنچے کہ :

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

تو اچھے اچھے استاد اُچھل پڑے ۔ بے اختیار ہو کر داد دینے لگے ۔ یہاں سے اقبال کی بحیثیت شاعر شہرت کا آغاز ہوا ۔ مشاعروں میں باصرار بُلائے جانے لگے ۔ اسی زمانے میں انجمن حمایتِ اسلام سے تعلق پیدا ہوا جو آخر تک قائم رہا ۔ اس کے ملّی اور رفاہی جلسوں میں اپنا کلام سناتے اور لوگوں میں ایک سماں باندھ دیتے ۔ اقبال کی مقبولیت نے انجمن کے بہت سارے کاموں کو آسان کردیا ۔ کم از کم پنجاب کے مسلمانوں میں سماجی سطح پر دینی وحدت کا شعور پیدا ہونا شروع ہوگیا جس میں اقبال کی شاعری نے بنیادی کردار ادا کیا۔
ایم اے پاس کرنے کے بعد اقبال 13مئی1899ء کو اورینٹل کالج میں میکلوڈ عربک ریڈر کی حیثیت سے متعین ہوگئے ۔ اسی سال آرنلڈ بھی عارضی طور پر کالج کے قائم مقام پرنسپل مقرر ہوئے ۔ اقبال تقریباً چار سال تک اورینٹل کالج میں رہے ۔ البتہ بیچ میں چھ ماہ کی رخصت لے کر گورنمنٹ کالج میں انگریزی پڑھائی۔ اعلی تعلیم کے لیے کینیڈا یا امریکہ جانا چاہتے تھے مگر آرنلڈ کے کہنے پر اس مقصد کے لیے انگلستان اور جرمنی کا انتخاب کیا ۔

بیسویں صدی کے عشرہ اول میں پنجاب کی مسلم آبادی ایک ٹھہراؤ میں مبتلا تھی ۔ کہنے کو مسلمانوں کے اندر دو سیاسی دھڑے موجود تھے مگر دونوں مسلمانوں کے حقیقی تہذیبی ، سیاسی اور معاشی مسائل سے بیگانہ تھے ۔ ان میں سے ایک کی قیادت سر محمد شفیع کے ہاتھ میں تھی اور دوسرا سر فضل حسین بھی اپنے اپنے حمایتیوں کو لے کر پہنچے  اور طے پایا کہ پنجاب میں صوبائی مسلم لیگ قائم کی جائے۔ اس فیصلے پر فوری عمل ہوا ۔ میاں شاہ دین صدر بنائے گئے اور سر محمد شفیع سیکرٹری جنرل ۔ سر فضل حسین عملاً الگ تھلگ رہے ۔ اقبال ان سب قائدین کے ساتھ دوستانہ مراسم تو رکھتے تھے مگر عملی سیاست سے انھوں نے خود کر غیر وابستہ ہی رکھا۔

1911ء تک متحدہ ہندوستان کے اکثر مسلمان قائدین ، سرسید کے حسب فرمان ، انگریزی حکومت کی وفاداری کا دم بھرتے رہے ، لیکن 1911ء اور 1912ء کے بیچ کے عرصے میں حالات جو ایک ڈھرّے پر چلے جارہے تھے ، اچانک پلٹا کھا گئے ۔ مسلمان سیاست دان بنگال کی تقسیم کے حق میں تھے ، انگریز بھی ایسا ہی چاہتے تھے ، مگر ہندو اس منصوبے کے سخت مخالف تھے ۔ ان کی جانب سے تشدّد کی راہ اختیار کی گئی تو انگریزی حکومت نے سپر ڈال دی ۔ تقسیم بنگال کو منسوخ کردیا گیا ۔ تقسیم بنگال کی منسوخی کا اعلان ہوا تو یکم فروری 1912ء کو موچی دروازہ لاہور میں مسلمانوں نے ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا ، جس میں اقبال بھی شریک ہوئے۔ مقررین نے بڑی جذباتی اور جوشیلی تقریریں کیں۔ اقبال کی باری آئی تو مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کا مینار بن کر اُٹھے اور فرمایا:

’’مسلمانوں کو اپنی ترقی کے لیے خود ہاتھ پاؤں مارنے چاہیئں ۔ ہندوؤں کو اب تک جو کچھ ملا ہے ، محض اپنی کوششوں سے ملا ہے۔ اسلام کی تاریخ دیکھو وہ کیا کہتی ہے ۔ عرب کے خطّے کو یورپین معماروں نے ردّی اور بیکار پتھر کا خطاب دے کر یہ کہہ دیاتھا کہ اس پتھر پر کوئی بنیاد کھڑی نہیں ہوسکتی ۔ ایشیا اور یورپ کی قومیں عرب سے نفرت کرتی تھیں مگر عربوں نے جب ہوش سنبھالا اور اپنے کس بل سے کام لیا تو یہی پتھر دنیا کے ایوانِ تمدن کی محراب کی کلید بن گیا ، اور خدا قسم ! روما جیسی باجبروت سلطنت عربوں کے سیلاب کے آگے نہ ٹھہر سکی ، یہ اس قوم کی حالت ہے جو اپنے بَل پر کھڑی ہوئی۔! ‘‘

اس تقریر سے مجمع میں رواں دواں لمحاتی اور بے جہت جوش و خروش اپنی قوم کے زندہ تشخص کے لیے درکار ایک بامعنی قوت میں بدل گیا جو ابھی محدود تھی مگر آگے چل کر اسے وسعت پکڑنی تھی۔ اور یوں فکر اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ ریاست اور اس کے وجود کے لئے جدوجہد کا خواب دیکھایا جس کے بعد پاکستان کا وجود ایک مسلہ حقیقت بن کر سامنے ابھرا۔

تصانیف

نثر

علم الاقتصاد-1903

فارسی شاعری

اسرار خودی-1915
رموز بے خودی-1917
پیام مشرق-1923
زبور عجم-1927
جاوید نامہ-1932
پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق-1936

ارمغان حجاز (فارسی-اردو)-1938

اردو شاعری

شکوہ
جواب شکوہ
خصر راہ
والدہ مرحومہ کی یاد میں
تصورات و نظریات
خودی
عقل و عشق
مرد مومن
وطنیت و قومیت
اقبال کا تصور تعلیم
اقبال کا تصور عورت
اقبال اور مغربی تہذیب
اقبال کا تصور ابلیس
اقبال اور عشق رسول

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں