site
stats
انفوٹینمنٹ

شمسی توانائی سے چلنے والا طیارہ

ابوظہبی: ٹیکنالوجی کی دنیا میں اہم پیش رفت شمسی توانائی سے چلنے والا طیارے دنیا کے سفر پر چل پڑا۔

شمسی توانائی سے چلنے والا طیارہ دنیا کے سفر پر روانہ ہوگیا، جہاز نے ابوظہبی سے اڑان بھری، بارہ سال میں تیار کئے گئے  اس طیارے کے پروں کے اوپر شمسی توانائی کے 17 ہزار سیل لگے ہوئے ہیں ، جن سے بجلی کی چار موٹریں 140 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلتی ہیں۔

کاربن فائبر سے بنے اس طیارے کے پر بہت بڑے ہیں اور ایک 72 میٹر چوڑا ہے، یہ پر بوئنگ 747 طیارے کے پر سے بھی چوڑا ہے، لیکن ہلکے میٹریل کی وجہ سے اس کا وزن صرف 2.3 ٹن ہے۔

جہاز میں شمسی توانائی جمع کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں بھی موجود ہیں، جس کی مدد سے طیارہ رات کو بھی پرواز کر سکے گا۔

سولر امپلس ٹو نامی جہاز میں دو سوئس پائلٹ سوار ہیں، طیارہ اگلے پانچ ماہ کے دوران دنیا کے گرد چکر پورا کرے گا، اس دوران طیارہ بھارت، میانمار، چین، ہوائی، امریکا، یورپ اور شمالی افریقا میں کچھ دیر کیلئے اترے گا اور بالآخر ابوظہبی میں اپنا سفر ختم کرے گا۔

حالیہ آزمائشی پرواز کے لیے ٹیسٹ پائلٹ مارکس شرڈل طیارہ چلا رہے تھے، طیارہ چھ ہزار فٹ کی بلندی تک گیا اور اس دوران طیارے کے انتظام کے کئی نظاموں کی جانچ پڑتال کی گئی۔

شرڈل نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کچھ گڑگڑاہٹ ضرور سنائی دی لیکن مشن کی عمومی صورتحال مثبت تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top