site
stats
اے آر وائی خصوصی

شہیدِ ملت ڈاکٹر لیاقت علی خان کا 63واں یومِ شہادت

پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کا تیرسٹھ واں یوم شہادت ملک بھر میں انتہائی عقیدت واحترام سے منایا جارہا ہے۔

آج سولہ اکتوبر کا وہ افسوسناک دن ہے، جب ملک کے پہلے وزیرِاعظم کوقتل کر دیا گیا مگر اب تک عوام اس قتل کے محرکات سے لاعلم ہے۔

لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے، آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922 میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی، 1923 میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے، 1936 میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے، آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے۔

پاکستان کے قیام میں نوابزادہ لیاقت علی خان کا کردار سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ، انیس سو اڑتالیس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد لیاقت علی خان ملک کے پہلے وزیرِاعظم کے طور پر قوم کے نگہبان بنے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ واقعہ انیس سو اکیاون کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسہ عام میں اس وقت پیش آیا، جب لیاقت علی خان خطاب کیلئے ڈائس پر پہنچے،اس دوران سید اکبر نامی شخص نے ان پر ریوالور سے گولیاں برسانا شروع کردیں، وزیرِاعظم کو فوری فوجی ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ شہید قرار دے دیئے گئے۔

ان کے آخری الفاظ تھے “خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘۔

شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کو پولیس کے ایک سب انسپکٹر محمد شاہ نے گولیوں سے اڑا دیا اور یوں شہید ملت کے قتل کا راز ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا۔

لیاقت علی کے صاحبزادے اکبر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ سید اکبر کو تو خواہ مخواہ نشانہ بنایا گیا، اصل قاتل کوئی اور تھا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ لیاقت علی خاں کو گولی سامنے سے نہیں، عقب سے ماری گئی تھی۔ جلسہ گاہ میں موجود مسلم لیگ گارڈ بھالوں سے سید اکبر پر ٹوٹ پڑے۔ اس کے جسم پر بھالوں کے درجنوں زخم تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم کے آس پاس بہت سے مسلح افراد موجود تھے جس سے ناقص حفاظتی انتظامات کی نشاندہی ہوتی ہے۔

بعد ازاں لیاقت علی کان کو سترہ اکتوبرانیس سو اکیاون کو قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں دفن کردیا گیا، ملک بھر میں لیاقت علی خان کی یاد میں سیمینارز، مذاکرے، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top