site
stats
اہم ترین

نئے قوانین پرابہام، فاٹا اراکین کوووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا

 

اسلام آباد: ایوانِ صدر سے رات گئے فاٹا اراکین کے ووٹوں کی تعداد سے متعلق جاری کردہ آرڈیننس ابہام کا شکارہوگیا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے فاٹا سےتعلق رکھنے والے اراکین ِاسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا ہے۔

صدارتی آرڈینیس کے مطابق فاٹا ارکان سینیٹ کےلیے ایک ایک ووٹ دے سکیں گے،جبکہ اس سے پہلے فاٹاارکین قومی اسمبلی چارچار ووٹ کاسٹ کرسکتے تھے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے وزارت قانون سے رائے طلب کرلی ہے۔

الیکشن کمیشن نے استفسار کیا ہے کہ سینیٹ الیکشن کی پولنگ سے ایک روز پہلے قانون میں تبدیلی کیسے ممکن ہے اور آگاہ کیا جائے کہ صدارتی آرڈیننس کی قانونی حیثیت کیا ہے۔

اس صورتحال میں فاٹا سے متعلق نئے قوانین پر ابہام پیدا ہو گیا ہے۔فاٹا کے بعض اراکین نے ریٹرنگ افسران سے کہا ہے کہ انھیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے تاہم الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے، الیکشن کا عمل ابہارم دور کرنے تک شروع نہیں کیا جاسکتا۔

پارلیمنٹ ہاوس میں فاٹا اراکین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی اور فاٹا کے رکن شہاب الدین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روک دیا گیا۔

دوسری جانب فاٹا ارکان نے سینیٹ الیکشن میں چارووٹ ڈالنے کا قانون ختم کرنے کا صدارتی آرڈیننس چیلنج کردیا ہے درخواست گزاروں نے سماعت آج ہی کرنے کی استدعا کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top