site
stats
اہم ترین

مذاکرات کا دروازہ بند،کل یوم انقلاب ہوگا، ڈاکٹرطاہرالقادری

اسلام آباد : پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور حکومتی وفد کے درمیان جاری مذاکرات اپنے اختتام کو پہنچ گئےہیں اور حکومتی وفد واپس روانہ ہوگیا ہے۔ ڈاکتر طاہر القادری نے اعلان کیا کہ مذاکرات کا دروازہ بند ہوگیا کل یومِ انقلاب ہوگا۔

  ڈاکٹر طاہر القادری نے گورنر سندھ اور گورنر پنجاب کا ان کی ذاتی حیثیت میں شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ وزیر اعظم اور حکومت کلی طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی نے ہم سے بارہا وقت مانگا اور ہم دیتے رہے لیکن وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سے دو مطالبے کئے تھے کہ سانحہ ماڈل ٹاوٗن کے اکیس نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور شہباز شریف استعفیٰ دیں تاکہ مزید شرائط پر گفتگو ہوسکے ۔

ان کا کہناتھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں غیر سنجیدہ ہے ہم نے وفد سے کہا تھا کہ آدھے گھنٹے بعد اگر حکومت کا جناب نہ ہو تو دوبارہ واپس نہ آئیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت سے مذاکرات ختم ہوچکیں ہیں ہم نے امن اور جمہوریت کو آکری ھد تک موقع دیا لیکن حکمرانوں کی نیت میں عوام کو عدل دینا نہ پہلے تھا نہ اب ہے لہذا مذاکرات کا دروازہ بند ہو گیا ہے اور ہم اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے میں حق بجانب ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جو لوگ آنا چاہیں کل تک آجائیں کل یوم ِانقلاب ہوگا ، عوام کو کل سے زیادہ نہیں بیٹھنا پرے گا ، کل حکمرانوں کا فیصلہ عوام کریں گے۔

پاکستان عوامی تحریک کے رہنماء  رحیق عباسی نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وفد نے مزیدآدھے گھنٹے کا وقت ماناگا ہے اور ہم ان حکمرانوں کو آخری حد تک موقع دینا چاہتے ہیں۔

گورنر سندھ ڈاکتر عشرت العباد کاکہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات حکومت کو ماننے چا ہیئے ، ا کیونکہ جائز اور قانونی مطالبات ماننا عوام کا حق  ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر زیادہ وقت گزرا تو الطاف حسین بھی عوامی دھرنے میں شمالیت اختیار کرلین گے۔


دوسری جانب وفاقی وزیر ِ ریلوے سعد رفیق کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے استعفے اور پنجاب میں گورنرراج کا آپشن زیر ِ غور نہیں ہیں۔

مذاکرات سے قبل گورنر سندھ داکٹر عشرت العباد اور گورنر پنجاب چوہدری سرور دھرنے کے شرکا؍ سے اظہار ِ یکجہتی کے لئے تشریف لائے تھے اور دونوں حضرات مذاکرات کے دوران بھی کنٹینر میں موجود رہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top