طاہر القادری پرمقدمہ درج، سرکاری ٹی وی کا دعویٰ -
The news is by your side.

Advertisement

طاہر القادری پرمقدمہ درج، سرکاری ٹی وی کا دعویٰ

اسلام آباد : سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹرطاہرالقادری کے خلاف عوام کوتشدد پر اکسانے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،اس سے قبل طاہر القادری کا کہنا تھا کہ یکم ستمبر کو شریف برادران اقتدار سے باہر ہوں گے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے پریس کانفرنس کے بعد حکومت پنجاب نے ان کے خلاف عوام کومشتعل کرنے اور تشدد پر اکسانے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ، لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران طاہر القادری نے دس اگست کو یوم شہدا کے روز انقلاب مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان کیا تھا اور پولیس سے عوام کے راستے نہ آنے کی اپیل کی تھی ۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف مقدمہ نمبر 304/14درج کیا گیا ہے جس میں 121،506 اور 7اے ٹی اے کی دفعات درج کی گئی ہیں، دفعہ 121 پاکستان کے خلاف جنگ کی کوشش یا اعانت کرنا ہے جس کی سزا موت ، عمر قید اور جرمانہ ہے،دفعہ 506کا مطلب دھمکیاں دینا ہے جسکی سزا دو سال قید تک ہو سکتی ہے، دفعہ 7اے ٹی اے کا مطلب ملک میں دہشت پھیلانا ہے جسکی سزا جرم کی نوعیت کے مطابق ہوتی ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد ایف آئی آر کو سیل کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹرطاہر القادری کی پاکستان آمد کے بعد انکی تقاریر کی تمام ویڈیوز حاصل کرکے لیگل ایڈوائزر مقدمے کے اندراج متعلق سوچتے رہے اور آخر کار سپریم کورٹ کے ایک سابق وکیل کی باہمی مشاورت کے ساتھ لاہور کے علاقہ موہنی روڈ کے رہائشی خورشید نامی شخص کی مدعیت میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف مقدمہ درج ہوا، ذرائع کے مطابق 11روزنامچے وزیر اعلی ہاؤس میں موجود ہیں جو لاہور کے مختلف تھانوں کے ہیں جہاں شہریوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف مقدمے کےا ندراج کی درخواست دی تھی، ڈاکٹر طاہرالقادری فیصل ٹاؤن کے رہائشی ہیں انکے خلاف مقدمہ تھانہ فیصل ٹاؤن کی بجائے داتا دربار پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں