طاہر القادری کی پاکستان آمد، کارکنوں کا والہانہ استقبال -
The news is by your side.

Advertisement

طاہر القادری کی پاکستان آمد، کارکنوں کا والہانہ استقبال

لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری وطن واپس پہنطے تو کاکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا، اس موقع پر لاہور ائیر پورٹ پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے۔ طاہر القادری لاہور ائیر پورٹ سے قافلے کی شکل میں داتا دربار کی جانب سے روانہ ہو گئے ہیں۔

اٹھائیس اکتوبر کو کینیڈا اور مختلف ممالک کے دورے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری آج وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ناقدین کی جانب سے عوامی تحریک کے رہنما  پر پاکستان آمد کے حوالے سے دی جانے والی آرا کو انھوں نے غلط ثابت کردیا ہے جبکہ طاہر القادری کی پاکستان آمد کے سلسلے میں بھی مختلف اداروں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا تھا تاہم وہ ان سب کے باوجود پاکستان پہنچ گئئے ہیں۔

طاہر القادری جب لاہور ائیر پورٹ پر اُترے تو عوامی تحریک کے راہنماوں نے ان کا پر تپاک استقبال کیا جبکہ طاہر القادری کی پاکستان آمد پر عوامی تحریک کے کارکنوں کی خوشی دیدنی تھی۔ طاہر القاردری جب ائیر پورٹ سے باہر آئے تو کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا اور ان کے حق میں نعرے بھی لگائے، نعروں کے جواب میں عوامی تحریک کے رہنما نے ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔ طاہر القادری کے استقبال کیلئے کارکنوں کی بڑی تعداد ائیر پورٹ پر موجود تھی جس میں بڑی تعداد میں عورتیں اوربچے بھی شامل تھے۔

ترجمان پی اے ٹی کے مطابق ڈاکٹر طاہر لقادری کو لاہور ایئر پورٹ سے جلوس کی شکل میں رنگ روڈ، ہربنس پورہ، مغل پورہ، صدر گول چکر، دھرم پورہ، مال روڈ، ناصر باغ سے ہوتے ہوئے داتا دربار لایا جائیگا پھر وہ داتا دربار سے منہاج القرآن سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن پہنچیں گے۔ڈاکٹر طاہر لقادری کی آمد پر منہاج القرآن اور پی اے ٹی کے کارکنان ایئر پورٹ، درتا دربار اور ماڈل ٹاؤن پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹرطاہرالقادری نے پاکستان پہنچنےکےبعداےآروائی نیوزسےخصوصی گفتگومیں کہا کہ وہ حکومت کی بنائی گئی جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی محض قاتلوں کو تحفظ دینےکےلئے بنائی گئی۔ انھوں نے کہا کہ شہیدوں کےخون کا قانون کےمطابق بدلہ لیاجائیگا۔ علامہ طاہرالقادری نے مزید کہا کہ جس جےآئی ٹی میں پنجاب پولیس کاافسرشامل ہووہ قبول نہیں کریں گے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ٹریبونل رپورٹ کو چھپایا جانا ظاہر کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ جس رپورٹ میں ورثا اور گواہان کو ہی شامل نہ کیاجائے اس کی اہمیت کیا ہوگی؟ طاہر القادری نے حکومت کو مخاطب کر کے کہاکہ وہ ان سے خوف زدہ نہ ہوں۔

بعد ازاں عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری اپنے کارکنوں کے ساتھ جلوس کی شکل میں داتا دربار کیلئے روانہ ہو گئے۔ طاہر القادری کی آمد پر پنجاب حکومت کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں