site
stats
پاکستان

طوفان کوخواتین کا نام دینے کہ وجہ اس کی تباہی کے آثار ہیں

کراچی : کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں سے طوفانی سمندر نیلوفر ٹکرائے گا، اس طوفان کو زنانہ نام دینے کہ وجہ اس کی تباہی کے آثار ہیں، آخر کب سے طوفانوں کے نسوانی نام رکھے جانے لگے۔

امریکہ میں قطرینہ، سینڈی ، ریٹا اور بحر ہند میں مالا، ہیلن، ماہا اور اب نیلوفر۔۔ یہ فلمی ایکٹرسس نہیں بلکہ سمندرمیں اٹھنے والے طوفانوں کے نام ہیں، خواتین کی طاقت کا اندازہ لگانے والے محکمہ موسمیات نے انیسویں صدی سے طوفان کو نسوانی /مونث نام دینے کا رواج دیا۔

جن میں باربرا فلورنس، ہیزل اور ڈولی شامل ہیں۔

امریکہ میں لوگ فرانسس، آئیون اور ایزابیل نامی طوفانوں سے برباد ہوئے تو جاپان میں اسے سونگڈا کے نام سے یاد کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق طوفان کے مونث نام کی وجہ سے لوگوں کے ذہن اسے خطرناک تصور نہیں کرتے، اسی لئے زیادہ نقصان ہوتا ہے، اسی وجہ سے انیسویں صدی کے آخر میں طوفانوں کو مذکر نام دیے جانے لگے، مگر خبردار ہوشیار ہوجائیں ، آئندہ کچھ دنوں میں پاکستان، انڈیا اور عمان کے ساحلی علاقوں پر نیلوفرکاغصہ اترے گا اوراس کے بعد سری لنکا میں پریا کا ساحلوں پر تباہی مچانے کا ارادہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top