The news is by your side.

Advertisement

عدالتی کمیشن کے قیام سے قبل نوازشریف استعفیٰ دیں،عمران خان

لاہور:پاکستان تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن کے قیام سے قبل نوازشریف استعفیٰ دیں۔

انہوں نے کہا کہ میری نواز شریف سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے بلکہ قومی مفادات کا معاملہ ہے۔ مسلم لیگ ن چھ بار پنجاب میں اور تین بار مرکز میں اقتدار میں آچکے ہیں اور ہم ان کے انداز سے بخوبی واقف ہیں یہ جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو گلو بٹ جیسے لوگ سامنے آتے ہیں اور غریب عوام مفلوک الحال ہوجاتی ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم کی تقریر میں معاشی ترقی کے ذکر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف شریف خاندان کی معاشی ترقی ہو رہی ہے میاں صاحب خود وزیر اعظم ہیں شہباز شریف وزیر اعلیٰ اور ان کا بیٹا بھی وزیر اعلیٰ بنا ہوا ہے اور سمدھی کو وزیر ِ خزانہ بنایا ہوا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب الیکشن کمیشن کی تعریفیں کررہے ہیں ان کو تو سزائیں دینی چاہئیں۔ اگر کسی کو کے پی کی الیکشن پر اعتراز ہے تو دوبارہ الیکشن کرالے پہلے سے زیادہ سیٹیں لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم درخواست کرتے رہے کہ چار حلقے کھول دیں لیکن نہ سنی اب کیوں عدالتی کمیشن بنارہے ہیں۔ سب تو ان کے نیچے ہیں ان کے خلاف تحقیقات کون کرے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں روکنے کے لئے حکومت گلو بٹ جیسے بدمعاشوں کو پولیس کی وردی پہنا کر ہمارے خلاف استعمال کرے گی اور ہم اسکی پیشگی اطلاع آئی جی پنجاب کو دے چکے ہیں۔

عمران خان نے شریف خاندان کے کرپشن کیسز کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر حال میں نکلیں گے اور اسلام آباد پہنچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کتنی شرم کی بات ہے کہ 15 سو کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے اور سندھ کے بارڈر پر بھی کارکنان کو روکا ہوا ہے کیا آپ سمجھتے ہیں اس سے احتجاج کو روک لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد پہنچیں گے اور اپنے مطالبات پیش کریں گے اور ہمارا مطالبہ ہوگا کہ نواز شریف استعفیٰ دیں اور پھر عدالتی کمیشن اپنا کام کرے۔

انہوں نے حکومت کو تنبیہہ کری کہ یہ عوام کا سمندر ہے اور یہ نواز شریف کو بہا کر لے جائے گا وہ اپنی قبر خود کھود رہے ہیں۔

انہوں نے منہاج القران کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو آپ نے انہیں گھیر کر رکھا ہے اور پولیس ان کے پیچھے لگا رکھی ہے تو حکومت تو خود انہیں اشتعال دلا رہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں