site
stats
عالمی خبریں

عراقی افواج دولتِ اسلامیہ سے تکریت واپس لینے کے لئے سرگرم

بغداد:عراقی سیکیورٹی فورسز اور ملیشیاؤں نے اپنے سب سے بڑے دشمن دولتِ اسلامیہ سے سابق ملٹری حکمران صدام حسسین کا آبائی شہر تکریت واپس لینے کے کے لئے کاروائی شروع کردی ہے جس کے لئے شمال اور جنوب کی جانب سے حملے کئے جارہے ہیں۔

یہ کاروائی دولتِ اسلامیہ کے دہشت گردوں کی جانب سے انبرصوبے مرکزی شہررمادی میں آرمی پر13 خود کش کار بم حملوں کے نتیجے میں کی جارہی ہے۔

صوبے کے گورنر کے مطابق عراقی فوج اوراتحادی جنگجوؤں نے تکریت شہر کے شمالی ضلع قادسیہ پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ دریائے دجلہ کے کنارے آباد اس شہر کے جنوبی کنارے سے شہر کے قلب کی جانب بھی ایک خصوصی فورس کے ذریعے دباؤ بڑھادیا ہے۔

ملٹری آپریشن کمانڈ سینٹر کے ترجمان کے مطابق فوجوں نے تکریت کے جنرل اسپتال پر اپنا تسلط قائم کرلیا ہے اور اسپتال کےساتھ واقع صدارتی محلات کے نزدیک گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔

دولت اسلامیہ نے گزشتہ سال جون تکریت پرقبضہ کیا تھا اورتب سے وہ صدام کے دور کے قائم کردہ محلات کو انہوں نے اپنا مسقربنارکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق 20 ہزار سے زائد فوجی اورایرانی حمایت یافتہ شیعہ مسلم ملیشیا، مقامی سنی قبائل کی مدد سے تکریت واپس لینے کے لئے دریا کے مشرقی کنارے سے حملہ آور ہوئے تھے۔

منگل کو انہوں نےتکریت کی ’العالم‘نامی شما لی پٹی پر قبضہ کرکے تکریت پر حملے کی راہ ہموار کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top