The news is by your side.

Advertisement

عوامی تحریک اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ، ڈیڈلاک برقرار

اسلام آباد:  پاکستان عوامی تحریک اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے تاہم دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔

پاکستان عوامی تحریک نے مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے اپنے مطالبات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھے، پاکستان عوامی تحریک نے وزیراعظم نواز شریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان دونوں کی موجودگی میں انصاف ملنے کی توقع نہیں، مذاکرات کے حوالے سے غلط پراپیگنڈہ کیا گیا۔

اس موقع پرحکومتی کمیٹی میں شامل وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیرعبدالقادر بلوچ، ایم کیو ایم رہنما حیدرعباس رضوی اور اعجاز الحق نے عوامی تحریک کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کی اور دونوں جانب سے مسئلے کے حل کے لئے درمیانی راستہ نکالنے پر زور دیا گیا۔

پاکستان عوامی تحریک اور حکومتی کمیٹی کے درمیان ملاقات کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے رہنماءرحیق عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے وزیراعلیٰ رہنے تک انصاف ملنے کی توقع نہیں، حکومتی کمیٹی سے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے، مرکزی اور صوبائی حکومتیں تحلیل کر کے مقدمہ درج کیا جائے اور حکومت ختم ہونے کے بعد نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ بامقصد مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، ہم نے اپنے مطالبات کمیٹی کے سامنے رکھ دیئے ہیں اب یہ حکمرانوں پر ہے کہ وہ حکومت بچانا چاہتے ہیں یا ریاست۔ رحیق عباسی کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے نامزد ملزموں کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا جائے اور عام شہریوں کی طرح قانون اور عدالت میں پیش کیا جائے

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں