The news is by your side.

Advertisement

عوام کو عدلیہ کی آزادی سے نہیں انصاف سے دلچسپی ہے، خالد انور

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں اٹھارہویں اور اکیسویں ترمیم کیس کی سماعت کے موقع پر وفاق کے وکیل خالد انور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عوام کو عدلیہ کی آزادی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ عدالتوں سے انصاف چاہتے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ایک ہی آرڈیننس بار بار جاری کرنا قانون کے ساتھ مذاق اور جمہوریت کی نفی ہے، جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے این آر او کا فیصلہ غیر ضروری طور پر کیا۔

حکومت اس کیس میں فریق بننے سے دستبردار ہو چکی تھی اس کے با وجود دو سو تیس صفحات کا فیصلہ دیا جس میں غیر ضروری نکات کی وضاحت کی گئی۔

خالد انور نے اپنے دلائل میں کہا امریکہ میں جج 20 سال بعد بھی اپنی سیاسی وابستگی سے پہچانا جاتا ہے امریکہ میں جج کا تقرر سینیٹ کر تی ہے۔

اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھو سہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان کی ججز تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی بالکل بے ضرر ہے جو ججز نامزد بھی نہیں کرتی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر پارلیمانی کمیٹی کسی سفارش سے اختلاف کرے تو سپریم کورٹ کو اس کاجائزہ لینے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

خالد انور نے کہا کہ کسی کو اپیل کا حق نہ دینا انصاف دینے سے انکار کے مترادف ہے، وقت ختم ہونے کے باعث مزید سماعت بدھ کی صبح تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں